کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خالد بن ولید کو سیف اللہ کہنے کا
حدیث نمبر: 7091
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْخَرَّارُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ : شَكَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا خَالِدُ ، لِمَ تُؤْذِي رَجُلا مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ ؟ " لَوْ أَنْفَقْتَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا لَمْ تُدْرِكْ عَمَلَهُ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يَقَعُونَ فِيَّ ، فَأَرُدُّ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تُؤْذُوا خَالِدًا ، فَإِِنَّهُ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ صَبَّهُ اللَّهُ عَلَى الْكُفَّارِ " .
سیدنا عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی شکایت لگائی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے خالد! تم نے اہل بدر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو کیوں تکلیف پہنچائی ہے؟ اگر تم احد پہاڑ جتنا سونا (اللہ کی راہ میں) خرچ کرو، تو تم پھر بھی اس کے عمل تک نہیں پہنچ سکتے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ میرے خلاف باتیں کر رہے تھے، تو میں نے انہیں جواب دیا ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ خالد کو تکلیف نہ پہنچاؤ کیونکہ وہ اللہ کی تلوار ہے جسے اللہ تعالیٰ نے کفار پر سونت رکھا ہے۔