کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - ذکر اس بیان کا کہ خالد بن ولید حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گھوڑسواری کے انچارج تھے
حدیث نمبر: 7090
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : كَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَزْهَرَ يُحَدِّثُ ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ ، فَكَانَ عَلَى خَيْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ ابْنُ الأَزْهَرِ : فَلَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ يَقُولُ : مَنْ يَدُلُّ عَلَى رَحْلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ؟ قَالَ ابْنُ الأَزْهَرِ : فَمَشَيْتُ ، أَوْ قَالَ : سَعَيْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَنَا مُحْتَلِمٌ أَقُولُ : مَنْ يَدُلُّ عَلَى رَحْلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ؟ حَتَّى دُلِلْنَا عَلَى رَحْلِهِ ، فَإِِذَا هُوَ قَاعِدٌ مُسْتَنِدٌ إِِلَى مُؤَخَّرِ رَحْلِهِ " فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ إِِلَى جُرْحِهِ " ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : وَحَسَبْتُ أَنَّهُ قَالَ : " وَنَفَثَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے یہ غزوہ حنین کے موقع کی بات ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھڑ سواروں کے امیر تھے۔ ابن اظہر بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ یہ فرما رہے تھے: خالد بن ولید کی رہائشی جگہ کے بارے کون بتائے گا، ابن ازہر کہتے ہیں، تو میں چل پڑا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے چلتا ہوا آیا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) دوڑتا ہوا آیا میں ان دنوں قریب بلوغ تھا میں نے کہا: کون شخص خالد بن ولید کی رہائشی جگہ تک رہنمائی کرے گا، یہاں تک کہ ہماری رہنمائی ان کی رہائشی جگہ تک کی گئی، تو وہ وہاں بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے اپنی پالان کے پچھلے حصے کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے آپ نے ان کے زخم کا جائزہ لیا۔ زہری بیان کرتے ہیں: میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس زخم پر اپنا لعاب دہن لگایا (یا پھونک ماری یا دم کیا)