کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - ذکر اس بیان کا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال سے اس کے قول پر کہا اور اس کی تصدیق کی
حدیث نمبر: 7087
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أبيه ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سَمِعَ خَشْخَشَةً أَمَامَهُ ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : بِلالٌ ، فَأَخْبَرَهُ وَقَالَ : بِمَ سَبَقْتَنِي إِِلَى الْجَنَّةِ ؟ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَحْدَثْتُ إِِلا تَوَضَّأْتُ ، وَلا تَوَضَّأْتُ إِِلا رَأَيْتُ أَنَّ لِلَّهِ عَلَيَّ رَكْعَتَيْنِ أُصَلِّيهُمَا ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِهَا " .
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (خواب میں) اپنے آگے کسی کے قدموں کی آہٹ سنی تو دریافت کیا: یہ کون ہے؟ فرشتوں نے بتایا: بلال ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں بتایا اور فرمایا تم کس وجہ سے جنت میں مجھ سے آگے ہو۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جب بھی بے وضو ہوتا ہوں تو وضو کر لیتا ہوں اور جب بھی وضو کرتا ہوں، تو مجھے یوں لگتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے لئے دو رکعات (تحیۃ الوضو) ادا کرنی چاہئیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی کی وجہ سے ہو گا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 7087
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق» -أيضا-. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 7045»