کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - ذکر اس بیان کا کہ بلال کو کوئی حالت پیش آتی تو وہ اس کے بعد وضو کرتے اور نماز پڑھتے
حدیث نمبر: 7086
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلِيلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أبيه ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا دَخَلْتُ الْجَنَّةَ إِِلا سَمِعْتُ خَشْخَشَةً ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالُوا : بِلالٌ ، ثُمَّ مَرَرْتُ بِقَصْرٍ مُشَيَّدٍ بَدِيعٍ ، فَقُلْتُ : لِمَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : لِرَجُلٍ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : أَنَا مُحَمَّدٌ ، لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ ؟ قَالُوا : لِرَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ ، فَقُلْتُ : أَنَا عَرَبِيٌّ ، لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ ؟ قَالُوا : لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ لِبِلالٍ : بِمَ سَبَقْتَنِي إِِلَى الْجَنَّةِ ؟ قَالَ : مَا أَحْدَثْتُ إِِلا تَوَضَّأْتُ ، وَمَا تَوَضَّأْتُ إِِلا صَلَّيْتُ ، وَقَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : لَوْلا غَيْرَتُكَ لَدَخَلْتُ الْقَصْرَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمْ أَكُنْ لأَغَارَ عَلَيْكَ " .
ابن بریدہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جب میں جنت میں داخل ہوا، تو میں نے قدموں کی آہٹ سنی، میں نے دریافت کیا: یہ کون ہے؟ فرشتوں نے بتایا: یہ بلال ہے، پھر میں ایک محل کے پاس سے گزرا جو بہت خوبصورت بنا ہوا تھا میں نے دریافت کیا: یہ کس کا ہے، تو فرشتوں نے بتایا: یہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا ہے۔ میں نے کہا: میں محمد ہوں، یہ محل کس کا ہے؟ فرشتوں نے جواب دیا: یہ عربوں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا ہے۔ میں نے کہا: میں بھی عرب ہوں، یہ محل کس کا ہے۔ فرشتوں نے بتایا: یہ عمر بن خطاب کا ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: تم کس وجہ سے مجھ سے جنت میں آگے ہو۔ انہوں نے عرض کی: میں جب بھی بے وضو ہوتا ہوں وضو کر لیتا ہوں اور جب بھی وضو کرتا ہوں دو نوافل ادا کرتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اگر مجھے تمہارے مزاج کی تیزی کا خیال نہ ہوتا تو میں محل کے اندر چلا جاتا۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ کے خلاف مزاج کی تیزی نہیں دکھا سکتا۔