حدیث نمبر: 7070
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أبيه ، قَالَ : كَانَ الرَّجُلُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِذَا رَأَى رُؤْيَا قَصَّهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكُنْتُ غُلامًا شَابًّا عَزَبًا ، وَكُنْتُ أَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ ، فَرَأَيْتُ فِيَ الْمَنَامِ كَأَنَّ مَلَكَيْنِ أَخَذَانِي ، فَذَهَبَا بِي إِِلَى النَّارِ ، فَإِِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَيِّ الْبِئْرِ ، وَإِِذَا لَهَا قَرْنَانِ ، وَإِِذَا فِيهَا نَاسٌ قَدْ عَرَفْتُهُمْ ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ مَرَّتَيْنِ ، فَلَقِيَهُمَا مَلَكٌ آخَرُ ، فقَالَ لِي : لَنْ تُرَاعَ ، فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ ، فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، غَيْرَ أَنَّهُ لا يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ إِِلا قَلِيلا " ، قَالَ سَالِمٌ : فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ بَعْدَ ذَلِكَ لا يَنَامُ مِنَ اللَّيْلِ إِِلا قَلِيلا .
سالم (اپنے والد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں جب کوئی شخص کوئی خواب دیکھا تھا “ تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اسے بیان کرتا تھا میں ان دنوں نوجوان کنوارہ شخص تھا میں مسجد میں سو جایا کرتا تھا میں نے خواب میں دیکھا کہ دو فرشتوں نے مجھے پکڑا وہ مجھے ساتھ لے کر جہنم کی طرف گئے، تو وہ کنویں کی طرح گول تھی اس کے دو کنارے تھے میں نے اس میں کچھ لوگوں کو دیکھا جن سے میں شناسا تھا “ تو میں نے یہ کہنا شروع کیا: میں جہنم سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں یہ بات میں نے دو مرتبہ کہی پھر ان دونوں فرشتوں سے ایک اور فرشتہ کی ملاقات ہوئی، تو اس نے مجھ سے کہا: تم گھبراؤ نہیں۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو یہ خواب سنایا، تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خواب سنایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ بن عمر اچھا آدمی ہے مگر یہ کہ وہ رات کے وقت بہت تھوڑے نوافل ادا کرتا ہے۔
سالم بیان کرتے ہیں: اس کے بعد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنا معمول بنایا کہ وہ رات کے وقت بہت تھوڑی دیر کے لیے سوتے تھے (زیادہ تر نوافل ادا کرتے رہتے تھے)
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو یہ خواب سنایا، تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خواب سنایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ بن عمر اچھا آدمی ہے مگر یہ کہ وہ رات کے وقت بہت تھوڑے نوافل ادا کرتا ہے۔
سالم بیان کرتے ہیں: اس کے بعد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنا معمول بنایا کہ وہ رات کے وقت بہت تھوڑی دیر کے لیے سوتے تھے (زیادہ تر نوافل ادا کرتے رہتے تھے)