حدیث نمبر: 7060
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ ، يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، أَنَّ عَلِيًّا خَطَبَ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ فَوَعَدَ النِّكَاحَ ، فَأَتَتْ فَاطِمَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِِنَّ قَوْمَكَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّكَ لا تَغْضَبُ لِبَنَاتِكَ ، وَإِِنَّ عَلِيًّا خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِنَّمَا فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي وَإِِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَسُوءَهَا ، وَذَكَرَ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ فَأَحْسَنَ عَلَيْهِ الثَّنَاءَ ، وَقَالَ : لا يُجْمَعُ بَيْنَ بِنْتِ نَبِيِّ اللَّهِ وَبَيْنَ بِنْتِ عَدُوِّ اللَّهِ " .
امام زین العابدین، سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کے لئے شادی کا پیغام بھیجا اور نکاح کا وعدہ کر لیا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں اور انہوں نے عرض کی: آپ کی قوم کے لوگ یہ بات کر رہے ہیں کہ آپ اپنی صاحب زادیوں کی وجہ سے غصہ نہیں کرتے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کے لئے شادی کا پیغام بھیجا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے مجھے وہ بات ناپسند ہو گی، جو اسے بری لگے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا اور ان کی اچھے لفظوں میں تعریف کی آپ نے فرمایا: اللہ کے نبی کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی (کسی شخص کے نکاح میں) جمع نہیں ہو سکتی ہیں۔