کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - ذکر اس بیان کا کہ زید بن حارثہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ محبوب لوگوں میں سے تھے
حدیث نمبر: 7044
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، فَطَعَنَ بَعْضُ النَّاسِ فِي إِِمْرَتِهِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِِنْ تَطْعَنُوا فِي إِِمْرَتِهِ فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي إِِمْرَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ ، وَأَيْمُ اللَّهِ إِِنْ كَانَ خَلِيقًا لِلإِِمَارَةِ ، وَإِِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِِلَيَّ ، وَإِِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِِلَيَّ بَعْدَهُ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم روانہ کی اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو ان کا امیر مقرر کیا بعض لوگوں نے ان کی امارت کے بارے میں الجھن کا اظہار کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا: اگر تم اس کے امیر ہونے کے بارے میں الجھن کا اظہار کر رہے ہو تو اس سے پہلے تم نے اس کے باپ کے حوالے سے بھی الجھن کا اظہار کیا تھا اللہ کی قسم وہ امیر ہونے کے قابل تھا اور میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تھا اور اس کے بعد یہ میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے۔
حدیث نمبر: 7045
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : جَاءَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ يَشْكُو زَيْنَبَ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمْسِكْ عَلَيْكَ أَهْلَكَ ، فَنَزَلَتْ : وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ سورة الأحزاب آية 37 " .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے (اپنی اہلیہ) سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو (یعنی اسے طلاق نہ دو) تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ” تم اپنے من میں وہ بات چھپا رہے تھے جسے اللہ تعالیٰ ظاہر کرنے والا تھا۔ “