کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - ذکر خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کا
حدیث نمبر: 7039
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً عَيْنًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتٍ ، فَانْطَلَقُوا ، حَتَّى إِِذَا كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ بَيْنَ عُسْفَانَ وَمَكَّةَ نُزُولا ، فَذُكِرُوا لِحَيٍّ مِنْ هُذَيْلٍ ، يُقَالُ لَهُمْ: بَنُو لِحْيَانَ ، فَاتَّبَعُوهُمْ بِقَرِيبٍ مِنْ مِائَةِ رَجُلٍ رَامٍ ، فَاقْتَصُّوا آثَارَهُمْ ، حَتَّى نَزَلُوا مَنْزِلا نَزَلُوهُ ، فَوَجَدُوا فِيهِ نَوَى تَمْرٍ مِنْ تَمْرِ الْمَدِينَةِ ، فَقِيلَ: هَذَا مِنْ تَمْرِ أَهْلِ يَثْرِبَ ، فَاتَّبَعُوا آثَارَهُمْ حَتَّى لَحِقُوهُمْ ، فَلَمَّا آنَسَهُمْ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَصْحَابُهُ لَجَئُوا إِِلَى فَدْفَدٍ ، وَجَاءَ الْقَوْمُ فَأَحَاطُوا بِهِمْ ، فَقَالُوا: لَكُمُ الْعَهْدُ وَالْمِيثَاقُ إِِنْ نَزَلْتُمْ إِِلَيْنَا أَنْ لا نَقْتُلَ مِنْكُمْ رَجُلا ، فَقَالَ عَاصِمٌ: أَمَّا أَنَا فَلا أَنْزِلُ فِي ذِمَّةِ قَوْمٍ كَافِرِينَ ، اللَّهُمَّ أَخْبِرْ عَنَّا رَسُولَكَ ، فَقَاتَلُوهُمْ فِي بُيُوتِهِمْ حَتَّى قَتَلُوا عَاصِمًا فِي سَبْعَةِ نَفَرٍ ، وَبَقِيَ خُبَيْبُ بْنُ عَدِيٍّ وَزَيْدُ بْنُ الدَّثِنَةِ وَرَجُلٌ آخَرُ ، فَأَعْطَوْهُمُ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ أَنْ يَنْزِلُوا إِِلَيْهِمْ ، فَلَمَّا اسْتَمْكَنُوا مِنْهُمْ حَلُّوا أَوْتَارَ قِسِيِّهِمْ ، فَرَبَطُوهُمْ بِهَا ، فَنَادَى الرَّجُلُ الثَّالِثُ الَّذِي مَعَهُمَا ، هَذَا أَوَّلُ الْغَدْرِ ، فَأَبَى أَنْ يَصْحَبَهُمْ ، فَجَرُّوهُ ، فَأَبَى أَنْ يَتَّبِعَهُمْ ، وَقَالَ: لِي فِي هَؤُلاءِ أُسْوَةٌ ، فَضَرَبُوا عُنُقَهُ ، وَانْطَلَقُوا بِخُبَيْبِ بْنِ عَدِيٍّ وَزَيْدِ بْنِ الدَّثِنَةِ حَتَّى بَاعُوهُمَا بِمَكَّةَ ، فَاشْتَرَى خُبَيْبًا بَنُو الْحَارِثِ بْنُ عَامِرٍ ، وَكَانَ الْحَارِثُ قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ ، فَمَكَثَ عِنْدَهُمْ أَسِيرًا ، حَتَّى إِِذَا اجْتَمَعُوا عَلَى قَتْلِهِ ، اسْتَعَارَ مُوسًى مِنْ إِِحْدَى بَنَاتِ الْحَارِثِ يَسْتَحِدُّ بِهِ ، فَأَعَارَتْهُ ، قَالَتْ: فَغَفَلْتُ عَنْ صَبِيٍّ لِي حَتَّى أَتَاهُ ، فَأَخَذَهُ فَأَضْجَعَهُ عَلَى فَخِذِهِ ، وَالْمُوسَى فِي يَدِهِ ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ ، فَزِعْتُ فَزَعًا شَدِيدًا ، فَقَالَ: خَشِيتِ أَنْ أَقْتُلَهُ؟ مَا كُنْتُ لأَفْعَلَ إِِنْ شَاءَ اللَّهُ ، قَالَ: فَكَانَتْ تَقُولُ: مَا رَأَيْتُ أَسِيرًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ خُبَيْبٍ ، لَقَدْ رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ مِنْ قِطْفِ عِنَبٍ وَمَا بِمَكَّةَ يَوْمَئِذٍ ثَمَرَةٌ ، وَإِِنَّهُ لَمُوثَقٌ فِي الْحَدِيدِ ، وَمَا كَانَ إِِلا رِزْقًا رَزَقَهُ اللَّهُ إِِيَّاهُ ، ثُمَّ خَرَجُوا بِهِ مِنَ الْحَرَمِ لِيَقْتُلُوهُ ، فقَالَ: دَعُونِي أُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ: لَوْلا أَنْ تَرَوْا أَنَّ مَا بِي جَزْعٌ مِنَ الْمَوْتِ ، لَزِدْتُ ، فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ سَنَّ الرَّكْعَتَيْنِ عِنْدَ الْقَتْلِ ، ثُمَّ قَالَ: وَلَسْتُ أُبَالِي حِينَ أُقْتَلُ مُسْلِمًا عَلَى أَيِّ شَقٍّ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِي ثُمَّ قَامَ إِِلَيْهِ عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ فَقَتَلَهُ ، وَبَعَثَتْ قُرَيْشٌ إِِلَى مَوْضِعِ عَاصِمٍ تُرِيدُ الشَّيْءَ مِنْ جَسَدِهِ لِيَعْرِفُوهُ ، وَكَانَ قَتَلَ عَظِيمًا مِنْ عُظَمَائِهِمْ يَوْمَ بَدْرٍ ، فَبَعَثَ اللَّهُ عَلَيْهِ مِثْلَ الظُّلَّةِ ، فَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَى شَيْءٍ مِنْهُ " ، هَكَذَا حَدَّثَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ مِنْ كِتَابِهِ: فَقَاتَلُوهُمْ فِي بُيُوتِهِمْ ، وَإِِنَّمَا هُوَ: فَقَاتَلُوهُمْ مِنْ ثُبُوتِهِمْ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم جاسوسی کے لیے روانہ کی آپ نے ان کا امیر عاصم بن ثابت کو مقرر کیا وہ لوگ روانہ ہوئے، یہاں تک کہ عسفان اور مکہ کے درمیان انہوں نے پڑاؤ کیا۔ ہذیل قبیلے کی ایک شاخ بنو لحیان کو ان کا پتہ چل گیا وہ لوگ ایک سو تیر اندازوں کے ساتھ ان کے پیچھے آئے اور ان کے قدموں کے نشانات پر آتے رہے، یہاں تک کہ انہوں نے بھی اسی جگہ پراؤ کیا جہاں انہوں نے پڑاؤ کیا تھا وہاں انہیں مدینہ منورہ کی کھجوروں کی گھٹلیاں ملیں، تو کہا: گیا، یہ تو اہل یثرب کی کھجوریں ہیں پھر وہ لوگ ان کے قدموں کے نشانات پر پیچھے آتے گئے، یہاں تک کہ ان تک پہنچ گئے جب سیدنا عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو ان کا احساس ہوا تو انہوں نے ایک پہاڑ کی آڑ لی وہ لوگ آئے اور انہوں نے ان حضرات کو گھیر لیا ان لوگوں نے کہا: آپ لوگوں کے ساتھ یہ پختہ عہد اور وعدہ ہے کہ اگر آپ اتر کر ہماری طرف آ جاتے ہیں، تو ہم آپ میں سے کسی بھی شخص کو قتل نہیں کریں گے، تو سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا: میں کافر قوم کی دی ہوئی پناہ کی وجہ سے نیچے نہیں اتروں گا: اے اللہ تو ہمارے بارے میں اپنے رسول کو اطلاع دیدے کہ ان لوگوں نے اپنی رہائشی جگہ پر رہتے ہوئے ان کے ساتھ لڑائی کی، یہاں تک کہ ان لوگوں نے سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ سمیت سات افراد کو قتل کر دیا صرف سیدنا خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ باقی رہ گئے اور ایک اور شخص باقی رہ گیا ان لوگوں نے ان حضرات کو یہ عہد دیا کہ وہ اگر اتر کر ان کی طرف آ گئے، تو (انہیں کچھ نہیں کہا: جائے گا) لیکن جب ان لوگوں نے ان حضرات پر ق ابوپا لیا تو انہوں نے ان کی کمانوں کے تار کھول دیئے اور اس کے ذریعے ان حضرات کو باندھ دیا تو ان دو کے ساتھ موجود تیسرے شخص نے کہا: یہ سب سے پہلی وعدہ خلافی ہے، اس نے ان کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا ان لوگوں نے انہیں کھینچا، تو اس شخص نے ان کے پیچھے جانے سے انکار کر دیا اور بولا: میرے لیے (ان مقتولین) کے طریقہ کار میں بہترین نمونہ ہے تو ان لوگوں نے اس شخص کی بھی گردن اڑا دی وہ لوگ سیدنا خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ کو لے کر آئے اور مکہ میں ان دونوں کو فروخت کر دیا۔ سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ کو حارث بن عامر کے بیٹوں نے خرید لیا کیونکہ حارث غزوہ بدر کے دن مارا گیا تھا وہ ان لوگوں کے ہاں قیدی کے طور پر رہے، یہاں تک کہ جب ان لوگوں نے انہیں قتل کرنے کے بارے میں طے کر لیا، تو سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ نے حارث کی ایک بیٹی سے ایک استرا عارضی استعمال کے لئے مانگا، تاکہ اس کے ذریعے اضافی بال صاف کر لیں اس عورت نے انہیں وہ استرا دے دیا وہ عورت بیان کرتی ہے میں اپنے بچے سے غافل ہوئی، یہاں تک کہ وہ بچہ ان کے پاس چلا گیا انہوں نے اس بچے کو پکڑا اور اپنی زانوں پر بٹھا لیا استرا ان کے ہاتھ میں تھا جب میں نے اس بچے کو دیکھا تو میں بہت گھبرا گئی انہوں نے دریافت کیا: کیا تمہیں اندیشہ ہے کہ میں اسے قتل کر دوں گا اگر اللہ نے چاہا تو میں ایسا نہیں کروں گا، وہ عورت بیان کرتی ہے میں نے ایسا کوئی قیدی کبھی نہیں دیکھا، جو سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ سے بہتر ہو میں نے انہیں انگور کھاتے ہوئے دیکھا ہے حالانکہ ان دنوں مکہ میں یہ پھل نہیں تھا اور وہ اس وقت لوہے میں جکڑے ہوئے تھے یہ وہ رزق تھا جو اللہ تعالیٰ انہیں عطا کرتا تھا پھر وہ لوگ (یعنی بنو حارث) انہیں حرم کی حدود سے باہر لے گئے تاکہ انہیں قتل کر دیں، تو سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے موقع دو تاکہ میں دو رکعات ادا کر لوں پھر انہوں نے دو رکعات ادا کی اور بولے: اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم یہ سمجھو گے کہ میں موت کے خوف کی وجہ سے (ایسا کر رہا ہوں) تو میں مزید رکعات ادا کرتا۔
(راوی کہتے ہیں) تو وہ پہلے فرد تھے جنہوں نے قتل ہونے کے وقت دو رکعات ادا کرنے کا طریقہ ایجاد کیا پھر انہوں نے فرمایا۔ ” اگر میں مسلمان ہونے کے عالم میں قتل کیا جاتا ہوں، تو پھر میں اس بات کی پرواہ نہیں کروں گا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مجھے کون سے پہلو کے بل گرایا جاتا ہے۔ “ پھر عقبہ بن حارث اٹھ کر ان کی طرف گیا اور اس نے انہیں شہید کر دیا۔ قریش نے عاصم کے مقام کی طرف کسی کو بھیجا تاکہ ان کے جسم کا کوئی حصہ حاصل کر لیں اور اس کے ذریعے انہیں پہچان لیں کیونکہ عاصم نے غزوہ بدر کے موقع پر ان کے بڑے فرد کو قتل کیا “ تو اللہ تعالیٰ نے ان پر سایہ بھیجا تو وہ لوگ ان کے جسم سے کچھ حاصل نہیں کر سکے۔
وہ یہ روایت ابن قتیبہ نے اپنی تحریر میں سے ہمیں بیان کی تھی جس میں یہ الفاظ ہیں۔ ” تو انہوں نے اپنے گھروں میں رہتے ہوئے ان کے ساتھ لڑائی کی “ حالانکہ الفاظ یہ ہیں: ” انہوں نے اپنی جگہ پر رہتے ہوئے ان کے ساتھ لڑائی کی۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 7039
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2724): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 7000»
حدیث نمبر: 7040
أَخْبَرَنَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، بِإِِسْنَادِهِ نَحْوَهُ ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: فَبَعَثَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِثْلَ الظُّلَّةِ مِنَ الدَّبْرِ ، فَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَى شَيْءٍ ، وَالدَّبْرُ الزَّنَابِيرُ .
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس کے آخر میں یہ الفاظ ہیں۔ ” اللہ تعالیٰ نے ان پر بادل کی طرح مکھیوں کا جتھہ بھیجا، تو وہ لوگ ان کے جسم کی کسی بھی چیز پر قادر نہ ہو سکے۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) لفظ دبل سے مراد شہد کی مکھیوں کا جتھہ ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 7040
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني تنبيه!! هذه المتابعة لم يحكم عليها الشيخ الألباني. - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 7000/*»