کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - ذکر اس بیان کا کہ وہ کپڑا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنا تھا وہ سونے سے بُنا ہوا تھا
حدیث نمبر: 7037
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ ابْنِ مَالِكٍ ، فَقَالَ لِي : مَنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : أَنَا وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَ : إِِنَّكَ بِسَعْدٍ لَشَبِيهٌ ، ثُمَّ بَكَى فَأَكْثَرَ الْبُكَاءَ ، قَالَ : رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى سَعْدٍ ، كَانَ مِنْ أَعْظَمِ النَّاسِ وَأَطْوَلِهِمْ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا إِِلَى أُكَيْدِرِ دُومَةَ ، " فَأَرْسَلَ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُبَّةِ دِيبَاجٍ مَنْسُوجٌ فِيهَا الذَّهَبُ ، فَلَبِسَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، فَقَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ أَوْ جَلَسَ ، فَلَمْ يَتَكَلَّمْ ، ثُمَّ نَزَلَ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَلْمَسُونَ الْجُبَّةَ ، وَيَنْظُرُونَ إِِلَيْهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَعْجَبُونَ مِنْهَا ؟ قَالُوا : مَا رَأَيْنَا ثَوْبًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِمَّا تَرَوْنَ " .
واقد بن عمرو بیان کرتے ہیں: میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے مجھ سے دریافت کیا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ ہوں، تو انہوں نے فرمایا: تمہاری سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے ساتھ مشابہت ہے پھر وہ رونے لگے اور بہت زیادہ روئے۔ انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ پر رحمت کرے وہ بڑے بھاری بھرکم اور طویل قامت تھے پھر سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دومہ (کے حکمران) اکیدر کی طرف لشکر روانہ کیا، تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ریشم سے بنا ہوا ایک جبہ بھیجا جس میں سونا بھرا ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہنا آپ منبر پر کھڑے ہوئے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) منبر پر بیٹھے آپ نے کوئی بات چیت نہیں کی پھر آپ منبر سے نیچے اترے لوگ اس جبے کو چھونے لگے اور اس کی طرف دیکھنے لگے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں یہ اچھا لگ رہا ہے۔ لوگوں نے کہا: ہم نے اس سے زیادہ عمدہ کپڑا کبھی نہیں دیکھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے زیادہ خوبصورت ہیں، جو تم دیکھ رہے ہو۔