کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - ذکر کہ عرش کا سعد بن معاذ کی وفات پر خوشی سے ہلنا اور اطمینان
حدیث نمبر: 7029
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى السِّخْتِيَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مَحْفُوظُ بْنُ أَبِي تَوْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَصَّارُ ، قَالا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجِنَازَةُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ : " اهْتَزَّ لَهَا عَرْشُ الرَّحْمَنِ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اهْتَزَّ لَهَا عَرْشُ الرَّحْمَنِ " ، يُرِيدُ بِهِ : اسْتَبْشَرَ وَارْتَاحَ ، كَقَوْلِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا : فَإِذَا أَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ سورة الحج آية 5 ، يُرِيدُ بِهِ : ارْتَاحَتْ وَاخْضَرَّتْ .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حالانکہ اس وقت سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا جنازہ لوگوں کے سامنے رکھا ہوا تھا آپ نے فرمایا: اس کے لیے رحمان کا عرش جھوم اٹھا ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: اس کے لیے رحمان کا عرش جھوم اٹھا ہے اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ ہے کہ اس نے خوش خبری حاصل کی ہے اور راحت حاصل کی ہے اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے۔ ” جب ہم اس پر اپنی رحمت نازل کرتے ہیں تو وہ جھوم اٹھتا ہے اور پھلتا پھولتا ہے۔ “ اس کے ذریعے مراد یہ ہے کہ وہ راحت حاصل کرتا ہے اور سرسبز ہو جاتا ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: اس کے لیے رحمان کا عرش جھوم اٹھا ہے اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ ہے کہ اس نے خوش خبری حاصل کی ہے اور راحت حاصل کی ہے اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے۔ ” جب ہم اس پر اپنی رحمت نازل کرتے ہیں تو وہ جھوم اٹھتا ہے اور پھلتا پھولتا ہے۔ “ اس کے ذریعے مراد یہ ہے کہ وہ راحت حاصل کرتا ہے اور سرسبز ہو جاتا ہے۔