کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - ذکر حنظلہ بن ابی عامر، غسیل الملائکہ، رضی اللہ عنہ اور اس پر اللہ کی رحمت
حدیث نمبر: 7025
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ وَقَدْ كَانَ النَّاسُ انْهَزَمُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَهَى بَعْضُهُمْ إِِلَى دُونِ الأَعْرَاضِ عَلَى جَبَلٍ بِنَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ ، ثُمَّ رَجَعُوا إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ كَانَ حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي عَامِرٍ الْتَقَى هُوَ وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ ، فَلَمَّا اسْتَعْلاهُ حَنْظَلَةُ رَآهُ شَدَّادُ بْنُ الأَسْوَدِ ، فَعَلاهُ شَدَّادٌ بِالسَّيْفِ حَتَّى قَتَلَهُ ، وَقَدْ كَادَ يَقْتُلُ أَبَا سُفْيَانَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِنَّ صَاحِبَكُمْ حَنْظَلَةَ تُغَسِّلُهُ الْمَلائِكَةُ ، فَسَلُوا صَاحِبَتَهُ " ، فَقَالَتْ : خَرَجَ وَهُوَ جُنُبٌ لَمَّا سَمِعَ الْهَائِعَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَذَاكَ قَدْ غَسَّلَتْهُ الْمَلائِكَةُ " .
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: یہ اس وقت کی بات ہے جب لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر پسپا ہو چکے تھے، یہاں تک کہ ان میں سے بعض لوگ پہاڑ کی دوسری طرف مدینہ منورہ والے حصے کی طرف چلے گئے (یعنی میدان جنگ سے پیچھے ہٹ چکے تھے) پھر وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس وقت واپس آئے جب سیدنا حنظلہ بن ابوعامر رضی اللہ عنہ اور سفیان بن حرب کے درمیان مقابلہ ہو رہا تھا جب سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ اس پر غالب آنے لگے تو شداد بن اسود نے انہیں دیکھ لیا شداد تلوار لے کر ان کے اوپر آیا، یہاں تک کہ انہیں شہید کر دیا حالانکہ وہ اس وقت ابوسفیان کو قتل کرنے ہی والے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارے ساتھی حنظلہ کو فرشتوں نے غسل دیا ہے تم اس کی بیوی سے دریافت کرو، تو اس خاتون نے بتایا: جب وہ نکلے تھے تو جنابت کی حالت میں تھے کیونکہ انہوں نے جنگ کی پکار سن لی تھی (اس لیے غسل کے بغیر چلے گئے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسی وجہ سے فرشتوں نے اسے غسل دیا ہے۔