کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - ذکر اسعد بن زرارہ بن عدس رضی اللہ عنہ اور اس پر اللہ کی رحمت
حدیث نمبر: 7012
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِثَ عَشْرَ سِنِينَ يَتَتَبَّعُ النَّاسَ فِي مَنَازِلِهِمْ فِي الْمَوْسِمِ وَمَجَنَّةَ وَعُكَاظٍ وَفِي مَنَازِلِهِمْ بِمِنًى ، يَقُولُ : " مَنْ يُؤْوِينِي ، وَيَنْصُرُنِي حَتَّى أُبَلِّغَ رِسَالاتِ رَبِّي ، وَلَهُ الْجَنَّةُ ؟ " فَلا يَجِدُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا يَنْصُرُهُ وَلا يُؤْوِيهِ ، حَتَّى إِِنَّ الرَّجُلَ لَيَرْحَلُ مِنْ مِصْرَ أَوْ مِنَ الْيَمَنِ إِِلَى ذِي رَحِمِهِ ، فَيَأْتِيهِ قَوْمُهُ ، فَيَقُولُونَ لَهُ : احْذَرْ غُلامَ قُرَيْشٍ لا يَفْتِنْكَ وَيَمْشِي بَيْنَ رِحَالِهِمْ يَدْعُوهُمْ إِِلَى اللَّهِ فَيُشِيرُونَ إِِلَيْهِ بِالأَصَابِعِ ، حَتَّى بَعَثَنَا اللَّهُ لَهُ مِنْ يَثْرِبَ ، فَيَأْتِيهِ الرَّجُلُ فَيُؤْمِنُ بِهِ ، وَيُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ ، فَيَنْقَلِبُ إِِلَى أَهْلِهِ فَيُسْلِمُونَ بِإِِسْلامِهِ ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ دَارٌ مِنْ دُورِ يَثْرِبَ إِِلا وَفِيهَا رَهْطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُظْهِرُونَ الإِِسْلامَ ، فَائْتَمَرَنَا وَاجْتَمَعْنَا ، فَقُلْنَا : حَتَّى مَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْرَدُ فِي جِبَالِ مَكَّةَ وَيَخَافُ ؟ فَرَحَلْنَا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَيْهِ فِي الْمَوْسِمِ ، فَوَاعَدَنَا شِعْبَ الْعَقَبَةِ ، فَقَالَ عَمُّهُ الْعَبَّاسُ : يَا أَهْلَ يَثْرِبَ ، فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَهُ مِنْ رَجُلٍ وَرَجُلَيْنِ ، فَلَمَّا نَظَرَ فِي وجُوهِنَا ، قَالَ : هَؤُلاءِ قَوْمٌ لا أَعْرِفُهُمْ ، هَؤُلاءِ أَحْدَاثٌ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلَى مَا نُبَايِعُكَ ؟ قَالَ : " تُبَايعُونِي عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي النَّشَاطِ وَالْكَسَلِ ، وَعَلَى النَّفَقَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ ، وَعَلَى الأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَعَلَى أَنْ تَقُولُوا فِي اللَّهِ ، لا يَأْخُذْكُمْ فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لائِمٍ ، وَعَلَى أَنْ تَنْصُرُونِي إِِذَا قَدِمْتُ عَلَيْكُمْ ، وَتَمْنَعُونِي مَا تَمْنَعُونَ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ وَأَزْوَاجَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ ، فَلَكُمُ الْجَنَّةُ " ، فَقُمْنَا نُبَايِعُهُ ، فَأَخَذَ بِيَدِهِ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ ، وَهُوَ أَصْغَرُ السَّبْعِينَ إِِلا أَنَا ، قَالَ : رُوَيْدًا يَا أَهْلَ يَثْرِبَ ، إِِنَّا لَمْ نَضْرِبْ إِِلَيْهِ أَكْبَادَ الْمَطِيِّ إِِلا وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِِنَّ إِِخْرَاجَهُ الْيَوْمَ مُفَارَقَةُ الْعَرَبِ كَافَّةً ، وَقَتْلَ خِيَارِكُمْ وَأَنْ تَعَضَّكُمُ السُّيُوفُ ، فَإِِمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَصْبِرُونَ عَلَيْهَا إِِذَا مَسَّتْكُمْ ، وَعَلَى قَتْلِ خِيَارِكُمْ وَمُفَارَقَةِ الْعَرَبِ كَافَّةً ، فَخُذُوهُ وَأَجْرُكُمْ عَلَى اللَّهِ ، وَإِِمَّا أَنْتُمْ تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ خِيفَةً ، فَذَرُوهُ فَهُوَ أَعْذَرُ عِنْدَ اللَّهِ ، قَالُوا : يَا أَسْعَدُ ، أَمِطْ عَنَّا يَدَكَ ، فَوَاللَّهِ لا نَذَرُ هَذِهِ الْبَيْعَةَ وَلا نَسْتَقِيلُهَا ، قَالَ : فَقُمْنَا إِِلَيْهِ رَجُلٌ رَجُلٌ ، فَأَخَذَ عَلَيْنَا شَرِيطَةَ الْعَبَّاسِ ، وَضَمِنَ عَلَى ذَلِكَ الْجَنَّةَ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَاتَ أَسْعَدُ بَعْدَ قُدُومِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ بِأَيَّامٍ ، وَالْمُسْلِمُونَ يَبْنُونَ الْمَسْجِدَ .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دس سال تک حج کے موقع پر مجنہ اور عکاظ کے بازاروں میں لوگوں کی رہائش گاہوں میں ان کے پاس جا کر اور منیٰ میں ان کی رہائشی جگہ پر جا کر یہ کہتے رہے کون شخص مجھے پناہ دے گا، اور میری مدد کرے گا، تاکہ میں اپنے پروردگار کے پیغام کی تبلیغ کر سکوں اس شخص کو جنت ملے گی، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی ایسا شخص نہیں ملا جو آپ کی مدد کرتا اور آپ کو پناہ دیتا، یہاں تک کہ ایک شخص مصر سے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) یمن سے اپنے کسی رشتے دار سے ملنے کے لئے آیا اس کی قوم کے افراد اس کے پاس آئے انہوں نے اس سے کہا: قریش کے اس نوجوان سے بچ کے رہنا کہیں یہ تمہیں آزمائش کا شکار نہ کر دے یہ لوگوں کی رہائش گاہوں پر آتا جاتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتا ہے۔ ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف انگلی سے اشارہ کر کے کہا: (کہ تم اس سے بچ کے رہنا)
(سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یثرب سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھیجا، تو ایک شخص آپ کے پاس آتا اور آپ پر ایمان لے آتا آپ اسے قرآن کی تلاوت سکھاتے وہ شخص اپنے گھر واپس جاتا اس کے اسلام قبول کرنے کی وجہ سے کچھ اور لوگ بھی مسلمان ہو جاتے، یہاں تک کہ یثرب کے ہر محلے میں کچھ نہ کچھ مسلمان ہو گئے، جو اسلام کا اظہار کرتے تھے ایک مرتبہ ہم نے آپس میں مل کر یہ سوچا کہ ہم کب تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ کے پہاڑوں میں رہنے دیں گے اور آپ خوف کے عالم میں وہاں رہیں گے، تو ہم لوگ وہاں سے روانہ ہوئے، یہاں تک کہ حج کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نے عقبہ کی گھاٹی میں آپ سے ملاقات طے کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے میرے بھتیجے! مجھے نہیں معلوم یہ کون لوگ ہیں، جو تمہارے پاس آئے ہیں، میں اہل یثرب میں بخوبی واقف ہوں، تو ہم لوگ ایک ایک کر کے آپ کے پاس اکٹھے ہو گئے جب انہوں نے ہمارے چہروں کا جائزہ لیا، تو بولے: ان لوگوں سے میں واقف نہیں ہوں یہ نئے لوگ ہیں۔ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کس بات پر آپ کی بیعت کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میری بیعت اس بات پر کرو کہ تم خوشی اور کسلمندی میں اطاعت و فرمانبرداری کرو گے اور تنگی اور خوشحالی میں خرچ کرو گے اور نیکی کا حکم دو گے اور برائی سے منع کرو گے اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بات کرو گے اور اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا اثر قبول نہیں کرو گے اور اس بات پر بیعت کرو کہ جب میں آ گیا، تو تم میری مدد کرو گے اور تم مجھ سے ہر اس چیز کو روکو گے جس سے تم اپنے آپ کو اپنی بیویوں کو اور اپنے بچوں کو روکتے ہو (یعنی دشمنوں کے حملے سے بچاؤ کرو گے) تو سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ جو میرے علاوہ ان باقی تمام ستر افراد میں کم سن تھے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑا اور بولے: اے اہل یثرب ٹھہر جاؤ ہم نے ان کی طرف سفر صرف اس لیے کیا ہے کیونکہ ہم یہ بات جانتے ہیں کہ یہ اللہ کے رسول ہیں اور آج (ان کا مکہ سے نکلنا) تمام عربوں سے لاتعلقی کے برابر ہو گا (یعنی عرب ہمارے بھی مخالف ہو جائیں گے) اور اس صورت میں تمہارے بہترین لوگ مارے جائیں گے تلواریں تم پر حملہ آور ہوں گی اگر تو تم ایسے لوگ ہو کہ اس صورت حال پر صبر کرو گے اگر یہ تمہیں درپیش آئی تو ٹھیک ہے، اگر تمہارے بہترین لوگ مارے جاتے ہیں اور تم تمام عربوں سے لاتعلق ہو جاتے ہو (اور اسے برداشت کر سکتے ہو) تو تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دو تمہارا اجر اللہ کے ذمے ہو گا لیکن اگر تمہیں اپنی ذات کے حوالے سے کوئی اندیشہ ہو تو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ دو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ زیادہ مناسب عذر ہو گا، تو لوگوں نے کہا: اے اسعد اپنا ہاتھ ہم سے دور کر لو اللہ کی قسم ہم اس بیعت کو چھوڑیں گے نہیں اور اسے واپس نہیں کریں گے۔ راوی کہتے ہیں: تو ہم ایک ایک کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہونا شروع ہوئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر وہی شرائط عائد کیں جو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کی تھیں اور آپ نے ایسا کرنے کی صورت میں جنت کی ضمانت دی۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا اسعد رضی اللہ عنہ کا انتقال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ منورہ تشریف لانے کے کچھ دن بعد ہو گیا تھا اس وقت مسلمان مسجد تعمیر کر رہے تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 7012
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (63)، وهو مكرر (6241). * [ابْنَ أَخِي إِنِّي لا أَدْرِي مَا هَؤُلاءِ القَوْمِ الَّذِينَ جَاؤُؤكَ؟! إِنِّي ذُو مَعرفَةٍ بـ] .. [العَبَّاسُ] قال الشيخ: هاتان الزيادتان سقطتا من «الأصل»، وكذا في «طبعة المؤسسة» (15/ 475)! واستدركتهما من «المسند»، و «المستدرك»، وقد أخرجه هذا مِنْ طريق شيخ المُؤلِّف. ولم يَتَنَبَّه لهذا السقط الفاحش: مُحَقِّقُ «طبعة المؤسسة»! ثُمَّ إِنَّ قول العباس هذا؛ أنا في شكٍّ مِنْ ثُبُوتِه في هذه القصَّة؛ لأنَّ في سندها يحيى بن سليم - وهو الطائفي -، وهو سيِّئُ الحفظ، رواه عن أبي خيثم؛ خلافاً لثقتين روياه عنه دون هذه الزيادة: أحدهما مَعْمَر، وقد تقدم لفظه (6241). والآخر: داود العطار: عند البيهقي في «السنن» (9/ 9)، و «الدلائل» (2/ 442). تنبيه!! ما بين المعقوفين زيادة من «طبعة باوزير» وليست موجودة في «طبعة المؤسسة». ملحوظة رقم (6241) = (6274) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6973»