کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - ذکر براء بن معرور بن صخر بن خنساء رضی اللہ عنہ اور اس پر اللہ کی رحمت
حدیث نمبر: 7011
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ الْحَسَنِ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنِ ابْنِ إِِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مَعْبَدُ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَغَيْرِهِ ، أنهم واعدوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْقَوْهُ مِنَ الْعَامِ الْقَابِلِ بِمَكَّةَ فِيمَنْ تَبِعَهُمْ مِنْ قَوْمِهِمْ ، فَخَرَجُوا مِنَ الْعَامِ الْقَابِلِ سَبْعُونَ رَجُلا فِيمَنْ خَرَجَ مِنْ أَرْضِ الشِّرْكِ مِنْ قَوْمِهِمْ ، قَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ : حَتَّى إِِذَا كُنَّا بِظَاهِرِ الْبَيْدَاءِ ، قَالَ الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورِ بْنِ صَخْرِ بْنِ خَنْسَاءَ وَكَانَ كَبِيرَنَا وَسَيِّدَنَا : قَدْ رَأَيْتُ رَأَيًا ، وَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَتُوَافِقُونِي عَلَيْهِ أَمْ لا ؟ إِِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ لا أَجْعَلَ هَذِهِ الْبَنِيَّةَ مِنِّي بِظَهْرٍ يُرِيدُ الْكَعْبَةَ ، وَإِِنِّي أُصَلِّي إِِلَيْهَا ، فَقُلْنَا : لا تَفْعَلْ ، وَمَا بَلَغَنَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِِلا إِِلَى الشَّامِ ، وَمَا كُنَّا نُصَلِّي إِِلَى غَيْرِ قِبْلَتِهِ ، فَأَبَيْنَا عَلَيْهِ ذَلِكَ وَأَبَى عَلَيْنَا ، وَخَرَجْنَا فِي وَجْهِنَا ذَلِكَ ، فَإِِذَا حَانَتِ الصَّلاةُ صَلَّى إِِلَى الْكَعْبَةِ ، وَصَلَّيْنَا إِِلَى الشَّامِ حَتَّى قَدِمْنَا مَكَّةَ ، قَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ : قَالَ لِي الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ : وَاللَّهِ يَا ابْنَ أَخِي قَدْ وَقَعَ فِي نَفْسِي مَا صَنَعْتُ فِي سَفَرِي هَذَا ، قَالَ : وَكُنَّا لا نَعْرِفُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكُنَّا نَعْرِفُ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ كَانَ يَخْتَلِفُ إِِلَيْنَا بِالتِّجَارَةِ وَنَرَاهُ ، فَخَرَجْنَا نَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ، حَتَّى إِِذَا كُنَّا بِالْبَطْحَاءِ لَقِينَا رَجُلا فَسَأَلْنَاهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : هَلْ تَعْرِفَانِهِ ؟ قُلْنَا : لا وَاللَّهِ ، قَالَ : فَإِِذَا دَخَلْتُمْ ، فَانْظُرُوا الرَّجُلَ الَّذِي مَعَ الْعَبَّاسِ جَالِسًا فَهُوَ هُوَ ، تَرَكْتُهُ مَعَهُ الآنَ جَالِسًا ، قَالَ : فَخَرَجْنَا حَتَّى جِئْنَاهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِِذَا هُوَ مَعَ الْعَبَّاسِ ، فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِمَا ، وَجَلَسْنَا إِِلَيْهِمَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ تَعْرِفُ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ يَا عَبَّاسُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، هَذَانِ الرَّجُلانِ مِنَ الْخَزْرَجِ وَكَانَتِ الأَنْصَارُ إِِنَّمَا تُدْعَى فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ أَوْسَهَا وَخَزْرَجَهَا ، هَذَا الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ ، وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ رِجَالِ قَوْمِهِ ، وَهَذَا كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ ، فَوَاللَّهِ مَا أَنْسَى قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الشَّاعِرُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنِّي قَدْ صَنَعْتُ فِي سَفَرِي هَذَا شَيْئًا أَحْبَبْتُ أَنْ تُخْبِرَنِي عَنْهُ ، فَإِِنَّهُ قَدْ وَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْهُ شَيْءٌ ، إِِنِّي قَدْ " رَأَيْتُ أَنْ لا أَجْعَلَ هَذِهِ الْبَنِيَّةَ مِنِّي بِظَهْرٍ ، وَصَلَّيْتُ إِِلَيْهَا ، فَعَنَّفَنِي أَصْحَابِي وَخَالَفُونِي ، حَتَّى وَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ مَا وَقَعَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَا إِِنَّكَ قَدْ كُنْتَ عَلَى قِبْلَةٍ ، لَوْ صَبَرْتَ عَلَيْهَا " ، وَلَمْ يَزِدْهُ عَلَى ذَلِكَ ، قَالَ : ثُمَّ خَرَجْنَا إِِلَى مِنًى فَقَضَيْنَا الْحَجَّ ، حَتَّى إِِذَا كَانَ وَسَطُ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ، اتَّعَدْنَا نَحْنُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَقَبَةَ ، فَخَرَجْنَا مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ نَتَسَلَّلُ مِنْ رِحَالِنَا ، وَنُخْفِي ذَلِكَ مِمَّنْ مَعَنَا مِنْ مُشْرِكِي قَوْمِنَا ، حَتَّى إِِذَا اجْتَمَعْنَا عِنْدَ الْعَقَبَةِ ، أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ عَمُّهُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَتَلا عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ ، فَأَجَبْنَاهُ وَصَدَّقْنَاهُ وَآمَنَّا بِهِ وَرَضِينَا بِمَا قَالَ ، ثُمَّ إِِنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ تَكَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الْخَزْرَجِ ، إِِنَّ مُحَمَّدًا مِنَّا حَيْثُ قَدْ عَلِمْتُمْ ، وَإِِنَّا قَدْ مَنَعْنَاهُ مِمَّنْ هُوَ عَلَى مِثْلِ مَا نَحْنُ عَلَيْهِ ، وَهُوَ فِي عَشِيرَتِهِ وَقَوْمِهِ مَمْنُوعٌ ، فَتَكَلَّمَ الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ وَأَخَذَ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : بَايِعْنَا ، قَالَ : " أُبَايعُكُمْ عَلَى أَنْ تَمْنَعُونِي مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ وَنِسَاءَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ " ، قَالَ : نَعَمْ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ فَنَحْنُ وَاللَّهِ أَهْلُ الْحَرْبِ ، وَرِثْنَاهَا كَابِرًا عَنْ كَابِرٍ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَاتَ الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ بِالْمَدِينَةِ قَبْلَ قُدُومِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِيَّاهَا بِشَهْرٍ ، وَأَوْصَى أَنْ يُوَجَّهَ فِي حُفْرَتِهِ نَحْوَ الْكَعْبَةِ ، فَفُعِلَ بِهِ ذَلِكَ ، وَأَمَّا تَرْكُ أَمْرِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِيَّاهُ بِإِِعَادَةِ الصَّلاةِ الَّتِي صَلاهَا نَحْوَ الْكَعْبَةِ ، حَيْثُ كَانَ الْفَرْضُ عَلَيْهِمُ اسْتِقْبَالَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، كَانَ ذَلِكَ لأَنَّ الْبَرَاءَ أَسْلَمَ لَمَّا شَاهَدَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمِنْ أَجْلِهِ لَمْ يَأْمُرْهُ بِإِِعَادَةِ تِلْكَ الصَّلاةِ .
معبد بن کعب اپنے بھائی عبداللہ بن کعب کے حوالے سے اپنے والد اور دیگر حضرات کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ وعدہ کیا کہ وہ اگلے سال مکہ میں اپنی قوم سے تعلق رکھنے والے اپنے ساتھیوں کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملیں گے پھر اگلے سال وہ ستر افراد نکلے جو شرک کی سرزمین سے نکلے تھے۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: یہاں تک کہ جب ہم بیداء کے مقام پر پہنچے تو سیدنا براء بن معرور رضی اللہ عنہ جو ہمارے بڑے اور ہمارے سردار تھے انہوں نے کہا: میری ایک رائے ہے اللہ کی قسم! مجھے نہیں معلوم کیا تم اس کے بارے میں میری موافقت کرو گے یا نہیں، میری یہ رائے ہے کہ میں اس عمارت کی طرف اپنی پیٹھ نہ کروں، ان کی مراد خانہ کعبہ تھا اور یہ کہ میں اس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کروں۔ ہم نے کہا: آپ ایسا نہ کریں کیونکہ ہم تک جو اطلاعات پہنچی ہیں اس کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (شام کی طرف یعنی بیت المقدس کی طرف) رخ کر کے نماز ادا کرتے ہیں، تو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلہ کے علاوہ کسی اور طرف رخ کر کے نماز ادا نہیں کر سکتے۔ ہم نے ان کی بات کا انکار کیا۔ انہوں نے بھی ہماری بات نہیں مانی پھر ہم آگے روانہ ہو گئے، یہاں تک کہ جب نماز کا وقت ہوا تو انہوں نے خانہ کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی اور ہم نے شام کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی ہم مکہ آئے۔
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا براء بن معرور رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: اللہ کی قسم! اے میرے بھتیجے میں نے اپنے اس سفر کے دوران جو کچھ کیا تھا وہ میرے ذہن میں آ گیا تھا۔ راوی کہتے ہیں: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو (چہرے سے) پہچانتے نہیں تھے ہم سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے چہرے سے واقف تھے کیونکہ وہ تجارت کے سلسلے میں ہمارے ہاں آتے جاتے رہتے تھے اور ہم انہیں دیکھ لیتے تھے، تو ہم مکہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں دریافت کرنے کے لئے نکلے، یہاں تک کہ جب ہم بطحاء میں پہنچے تو ہماری ملاقات ایک شخص سے ہوئی ہم نے اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں دریافت کیا: تو اس نے دریافت کیا: کیا تم لوگ انہیں جانتے ہو۔ ہم نے کہا: نہیں اللہ کی قسم! نہیں۔ اس نے کہا: تم لوگ اندر جاؤ ان صاحب کو دیکھو، جو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں وہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں میں انہیں ابھی بیٹھا ہوا چھوڑ کر آیا ہوں۔ راوی کہتے ہیں: ہم وہاں سے روانہ ہوئے، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے ہم نے ان دونوں صاحبان کو سلام کیا اور ان کے پاس بیٹھ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اے عباس آپ ان دونوں کو جانتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں یہ دونوں صاحبان خزرج قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں (راوی کہتے ہیں:) اس زمانے میں انصار کو ان کے قبیلے اوس اور خزرج کے حوالے سے پہچانا جاتا تھا۔
(سیدنا عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا:) یہ براء بن معرور ہے، جو اپنی قوم کا ایک بڑا فرد ہے اور یہ کعب بن مالک ہے (سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) اللہ کی قسم! میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نہیں بھولا، آپ نے دریافت کیا: وہ جو شاعر ہے۔ انہوں نے عرض کی: جی ہاں۔ سیدنا براء بن معرور رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے اپنے سفر کے دوران ایک کام کیا ہے میں یہ چاہتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس بارے میں کچھ بتائیں میرے ذہن میں اس کے حوالے سے ایک الجھن ہے مجھے یہ لگا کہ مجھے اس عمارت کی طرف اپنی پشت نہیں کرنی چاہئے اور مجھے اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنی چاہئے، تو اس بات پر میرے ساتھی مجھ سے ناراض ہو گئے انہوں نے میری مخالفت بھی کی، یہاں تک کہ میرے ذہن میں اس بارے میں یہ چیز آئی جو آئی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم ایک قبلہ پر ہو اگر تم اس پر صبر سے کام لو (تو یہ مناسب ہو گا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے علاوہ مزید کچھ ارشاد نہیں فرمایا۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر ہم لوگ وہاں سے نکل کر منیٰ کی طرف آئے ہم نے اپنا حج مکمل کیا، یہاں تک کہ ایام تشریق کے درمیان میں ہم نے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ طے کیا کہ ہم عقبہ میں ملاقات کریں گے تو ہم رات کے وقت اپنی رہائش گاہوں سے کھسک کر وہاں گئے ہم اپنی قوم کے مشرکین سے اس چیز کو خفیہ رکھنا چاہتے تھے، یہاں تک کہ ہمارا اجتماع گھاٹی کے پاس ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے قرآن کی تلاوت کی ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا تھا اس پر راضی ہوئے پھر سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے گفتگو شروع کی انہوں نے کہا: اے خزرج کے گروہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمارے درمیان کیا حیثیت ہے، یہ تم جانتے ہو، ہم نے انہیں ان لوگوں سے بچا کر رکھا ہے جو ہمارے (یعنی اہل مکہ) کے دین پر کاربند ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خاندان اور اپنی قوم میں محفوظ ہیں، پھر سیدنا براء بن معرور رضی اللہ عنہ نے گفتگو شروع کی انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑا اور بولے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے بیعت لیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم لوگوں سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ تم مجھ سے بھی اس چیز کو روکو گے جس سے تم اپنے آپ کو اپنی عورتوں کو اور اپنے بچوں کو روکتے ہو (یعنی دشمن سے بچاؤ کرو گے) انہوں نے کہا: جی ہاں اس ذات کی قسم! جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ہم اللہ کی قسم! جنگ کرنے والے لوگ ہیں اور یہ چیز ہمیں ورثے میں ملی ہے۔

(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا براء بن معرور رضی اللہ عنہ کا انتقال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ منورہ تشریف لانے سے چند ماہ پہلے ہو گیا تھا۔ انہوں نے یہ وصیت کی تھی کہ ان کی قبر میں ان کا رخ خانہ کعبہ کی طرف کیا جائے، تو ان کے ساتھ ایسا ہی کیا گیا، جہاں تک اس چیز کا تعلق ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان نمازوں کے دہرانے کا حکم نہیں دیا، جو انہوں نے خانہ کعبہ کی طرف رخ کر کے ادا کی تھیں، حالانکہ اس وقت ان لوگوں پر بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا فرض تھا تو اس کی وجہ یہ ہے: سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے اسلام اس وقت قبول کیا تھا جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی تھی۔ اسی لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وہ نمازیں دہرانے کی ہدایت نہیں کی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 7011
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني إسناده حسن - «مجمع الزوائد» (6/ 45). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6972»