کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - ذکر زبیر بن عوام بن خویلد رضی اللہ عنہ اور اس پر اللہ کی رحمت، اور یہ ہوا
حدیث نمبر: 6982
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا عَتِيقُ بْنُ يَعْقُوبَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْرُ بْنُ خُبَيْبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ لأَبِيهِ : يَا أَبَتِ ، حَدِّثْنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أُحَدِّثَ عَنْكَ ، فَإِِنَّ كُلَّ أَبْنَاءِ الصَّحَابَةِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : يَا بُنَيَّ ، مَا مِنْ أَحَدٍ صَحِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصُحْبَةٍ إِِلا وَقَدْ صَحِبْتُهُ مِثْلَهَا أَوْ أَفْضَلَ ، وَلَقَدْ عَلِمْتَ يَا بُنَيَّ أَنَّ أُمَّكَ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ كَانَتْ تَحْتِي ، وَلَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ عَائِشَةَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ خَالَتُكَ ، وَلَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ أُمِّي صَفِيَّةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، وَأَنَّ أَخْوَالِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَأَبُو طَالِبٍ وَالْعَبَّاسُ ، وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنُ خَالِي ، وَلَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ عَمَّتِي خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ وَكَانَتْ تَحْتَهُ ، وَأَنَّ ابْنَتَهَا فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ أُمَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آمِنَةُ بِنْتُ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ زُهْرَةَ ، وَأَنَّ أُمَّ صَفِيَّةَ وَحَمْزَةَ هَالَةُ بِنْتُ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ زُهْرَةَ ، وَلَقَدْ صَحِبْتُهُ بِأَحْسَنَ صُحْبَةٍ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
ہشام بن عروہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اپنے والد سے کہا: اے ابا جان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے مجھے کوئی حدیث بیان کیجئے تاکہ میں وہ آپ کے حوالے سے روایت کر سکوں، کیونکہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بچے اپنے والد کے حوالے سے حدیث بیان کرتے ہیں: تو انہوں نے فرمایا: اے میرے بیٹے جو بھی شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہا ہے میں بھی اس کی مانند یا اس سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا ہوں اے میرے بیٹے تم یہ بات جانتے ہو کہ تمہاری والدہ اسماء بنت ابوبکر میری بیوی تھی اور تم یہ بات بھی جانتے ہو کہ عائشہ بنت ابوبکر تمہاری خالہ ہے اور تم یہ بات بھی جانتے ہو کہ میری والدہ صفیہ بنت عبدالمطلب ہیں (جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی ہیں) اور میرے ماموں حمزہ بن عبدالمطلب اور جناب ابوطالب سیدنا عباس رضی اللہ عنہ ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماموں زاد بھی ہیں تم یہ بات بھی جانتے ہو کہ خدیجہ بنت خویلد میری پھوپھی تھی وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ تھیں اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی صاحب زادی سیدنا فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صاحب زادی ہیں اور تم یہ بات بھی جانتے ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ سیدہ آمنہ بنت وہب رضی اللہ عنہا ہیں، جبکہ (میری والدہ) سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا اور (میرے ماموں) سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی والدہ ہالہ بنت وہب میں (جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سگی خالہ ہیں) تو میں الحمدللہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اچھی طرح سے رہا ہوں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” جو شخص میری طرف ایسی بات منسوب کرے جو میں نے نہ کہی ہو وہ جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لئے تیار رہے۔ “