کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - ذکر وصف کہ طلحہ کو یوم احد پر مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو زخم لگے
حدیث نمبر: 6980
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، عَنْ إِِسْحَاقَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : لَمَّا صُرِفَ النَّاسُ يَوْمَ أُحُدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كُنْتُ أَوَّلَ مَنْ جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِِلَى رَجُلٍ بَيْنَ يَدَيْهِ يُقَاتِلُ عَنْهُ وَيَحْمِيهِ ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ : كُنْ طَلْحَةَ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ، مَرَّتَيْنِ ، قَالَ : ثُمَّ نَظَرْتُ إِِلَى رَجُلٍ خَلْفِي كَأَنَّهُ طَائِرٌ ، فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ أَدْرَكَنِي ، فَإِِذَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ، فَدَفَعْنَا إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِِذَا طَلْحَةُ بَيْنَ يَدَيْهِ صَرِيعٌ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دُونَكُمْ أَخُوكُمْ ، فَقَدْ أَوْجَبَ ، قَالَ : وَقَدْ رُمِيَ فِي جَبْهَتِهِ وَوَجْنَتِهِ ، فَأَهْوَيْتُ إِِلَى السَّهْمِ الَّذِي فِي جَبْهَتِهِ لأَنْزِعَهُ ، فَقَالَ لِي أَبُو عُبَيْدَةَ : نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ يَا أَبَا بَكْرٍ إِِلا تَرَكْتَنِي ، قَالَ : فَتَرَكْتُهُ ، فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ السَّهْمَ بِفِيهِ فَجَعَلَ يُنَضْنِضُهُ ، وَيَكْرَهُ أَنْ يُؤْذِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ اسْتَلَّهُ بِفِيهِ ، ثُمَّ أَهْوَيْتُ إِِلَى السَّهْمِ الَّذِي فِي وَجَنَتِهِ لأَنْزِعَهُ ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ يَا أَبَا بَكْرِ إِِلا تَرَكْتَنِي ، فَأَخَذَ السَّهْمَ بِفِيهِ ، وَجَعَلَ يُنَضْنِضُهُ ، وَيَكْرَهُ أَنْ يُؤْذِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ اسْتَلَّهُ ، وَكَانَ طَلْحَةُ أَشَدَّ نَهْكَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ مِنْهُ ، وَكَانَ قَدْ أَصَابَ طَلْحَةَ بَضْعَةٌ وَثَلاثُونَ بَيْنَ طَعْنَةٍ وَضَرْبَةٍ وَرَمْيَةٍ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی غزوہ احد کے دن جب لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے ہٹ گئے، تو میں وہ پہلا شخص تھا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا میں نے ایک شخص کی طرف دیکھا، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے موجود تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لڑائی میں حصہ لے رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بچانے کی کوشش کر رہا تھا تو میں نے دو مرتبہ یہ کہا: تم طلحہ ہو میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنے پیچھے موجود شخص کو دیکھا جو پرندے کی مانند تھا تھوڑی ہی دیر میں وہ مجھ تک پہنچ گیا تو وہ سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھے پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ آپ کے سامنے مقابلہ کر رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے بھائی کا خیال کرو، جس نے (اپنے لئے جنت) واجب کر لی ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسار پر تیر لگا تھا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر لگے ہوئے تیر کو نکالنے کا ارادہ کیا سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں کہ آپ یہ کام میرے لئے چھوڑ دیں، تو میں نے اسے چھوڑ دیا۔ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اپنے منہ کے ذریعے اس تیر کو پکڑا اور اس کو کھینچنے کی کوشش کرنے لگے وہ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف پہنچے پھر انہوں نے اپنے منہ کے ذریعے اسے کھنچ لیا پھر میں اس تیر کی طرف بڑھا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسار پر لگا تھا، تاکہ اسے نکالوں۔ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوبکر میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں اسے آپ میرے لئے چھوڑ دیں، تو انہوں نے وہ تیر بھی اپنے منہ کے ذریعے پکڑا اور اسے نکالنے کی کوشش کرنے لگے وہ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف پہنچائیں پھر انہوں نے اسے کھینچ دیا۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ زخمی تھے (یا انہوں نے لڑائی میں زیادہ حصہ لیا) جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے زیادہ شدید تھے۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کو اس دن نیزے، تلوار اور تیر کے تیس سے زیادہ زخم آئے تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 6980
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف جدا. * [إِسْحَاقَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ] قال الشيخ: قلتُ: إسحاق - هذا - ضعيفٌ أو متروكٌ، وممّن ضعَّفه المؤلِّفُ في كتابيه: «الثقات»، و «الضعفاء»؛ فقال في الأول: «يُخطئ وَيَهِمُ، وقد أدخلناه في «الضعفاء» لِمَا كان فيه من الإيهام .. ». ثُمَّ صرَّح بأنَّه يُتْرَكُ إذا لم يُتَابَعْ. فإيرادُهُ حديثَهُ هذا - هنا - مخالفٌ لتصريحه المذكور هناك؛ فتأمَّلْ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6941»