کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - ذکر طلحہ بن عبید اللہ تیمی رضی اللہ عنہ اور اس پر اللہ کی رحمت، اور یہ ہوا
حدیث نمبر: 6979
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصْعِدِينَ فِي أُحُدٍ ، فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ظَهْرِهِ لِيَنْهَضَ عَلَى صَخْرَةٍ فَلَمْ يَسْتَطِعْ ، فَبَرَكَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ تَحْتَهُ ، فَصَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ظَهْرِهِ ، حَتَّى جَلَسَ عَلَى الصَّخْرَةِ ، قَالَ الزُّبَيْرُ : فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : أَوْجَبَ طَلْحَةُ ، ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَأَتَى الْمِهْرَاسَ ، وَأَتَاهُ بِمَاءٍ فِي دَرَقَتِهِ ، فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَشْرَبَ مِنْهُ فَوَجَدَ لَهُ رِيحًا فَعَافَهُ ، فَغَسَلَ بِهِ الدَّمَ الَّذِي فِي وَجْهِهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : " اشْتَدَّ غَضِبُ اللَّهِ عَلَى مَنْ دَمَّى وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اپنے والد (سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے ہم احد پہاڑ پر چڑھنے لگے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ایک چٹان پر چڑھنے کی کوشش کی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں چڑھ سکے، تو سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے گھٹنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نیچے بچھائے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی پشت پر پاؤں رکھ کر اوپر چڑھ گئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس چٹان پر تشریف فرما ہوئے۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: طلحہ نے (اپنے لئے جنت) واجب کر دی ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو حکم دیا وہ مہراس کے پاس آئے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی ڈھال میں پانی لے کر آئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے پینا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں بو محسوس ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں پیا پھر اس پانی کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر لگے ہوئے خون کو دھو دیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کا غضب ان لوگوں پر شدت سے نازل ہو گا جنہوں نے اللہ کے رسول کے چہرے کو خون آلود کیا۔