کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے حسین بن علی کو دنیا میں اپنی ریحانہ کہا
حدیث نمبر: 6969
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي نُعْمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ شَيْءٍ ، قَالَ شُعْبَةُ : سَأَلَهُ عَنِ الْمُحْرِمِ يَقْتُلُ الذُّبَابَ ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : يَسْأَلُونِي عَنْ قَتْلِ الذُّبَابِ وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُمَا رَيْحَانَتِي مِنَ الدُّنْيَا " ، ابْنُ أَبِي نُعْمٍ : هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ .
ابن ابونعیم بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو سنا ایک شخص نے ان سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا۔ شعبہ نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے ایک شخص نے ان سے احرام والے شخص کے بارے میں دریافت کیا: جو مکھی کو مار دیتا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا یہ لوگ مجھ سے مکھی کو مارنے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں حالانکہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کو شہید کر دیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: یہ دونوں (نواسے) دنیا میں میری خوشبو ہیں۔
ابن ابونعیم نامی راوی کا نام عبدالرحمن ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 6969
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (564): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6930»