کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - ذکر وجہ کہ جس کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹوں سے یہ دنیا حرام کی گئی
حدیث نمبر: 6968
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِِسْمَاعِيلَ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : بَلَغَ ابْنَ عُمَرَ وَهُوَ بِمَالٍ لَهُ أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ قَدْ تَوَجَّهَ إِِلَى الْعِرَاقِ ، فَلَحِقَهُ عَلَى مَسِيرَةِ يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلاثَةٍ ، فَقَالَ : إِِلَى أَيْنَ ؟ فَقَالَ : هَذِهِ كُتُبُ أَهْلِ الْعِرَاقِ وَبَيْعَتُهُمْ ، فَقَالَ : لا تَفْعَلْ ، فَأَبَى ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ : " إِِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَيَّرَهُ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ فَاخْتَارَ الآخِرَةَ ، وَلَمْ يُرِدِ الدُّنْيَا ، وَإِِنَّكَ بَضْعَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَذَلِكَ يُرِيدُ مِنْكُمْ " ، فَأَبَى ، فَاعْتَنَقَهُ ابْنُ عُمَرَ ، وَقَالَ : أَسْتَوْدِعُكَ اللَّهَ ، وَالسَّلامُ .
امام شعبی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ اطلاع ملی وہ اس وقت اپنی زمینوں پر موجود تھے کہ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ عراق کی طرف جانے لگے ہیں، تو وہ دو یا تین دن کا سفر کر کے سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور دریافت کیا: آپ کہاں جانا چاہتے ہیں؟ انہوں نے بتایا: یہ اہل عراق کے خطوط ہیں اور ان کی بیعت (کے بارے میں خطوط ہیں) تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ایسا نہ کیجئے۔ لیکن سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے یہ بات نہیں مانی۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخرت کو اختیار کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا نہیں چاہتے تھے۔ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جگر کے ٹکڑے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے بھی اسی چیز کے طلب گار ہوں گے (کہ آپ دنیا کی طرف متوجہ نہ ہوں) لیکن سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے یہ بات نہیں مانی۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں گلے لگایا اور کہا: میں آپ کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں والسلام۔