کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - ذکر بیان کہ جب مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تک پہنچا تو انہوں نے اس خطبہ سے رکنا پسند کیا
حدیث نمبر: 6957
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَلِيًّا خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ فَاطِمَةَ ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِِنَّ النَّاسَ يَزْعُمُونَ أَنَّكَ لا تَغْضَبُ لِبَنَاتِكَ ، وَهَذَا عَلِيٌّ نَاكِحٌ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ ، قَالَ الْمِسْوَرُ : فَشَهِدْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تَشَهَّدَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ " فَإِِنِّي أَنْكَحْتُ أَبَا الْعَاصِ ابْنَتِي فَحَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي ، وَإِِنَّمَا فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي ، وَإِِنَّهُ وَاللَّهِ لا تَجْتَمِعُ عِنْدَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ " ، فَأَمْسَكَ عَلِيٌّ عَنِ الْخِطْبَةِ .
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی صاحب زادی کے لئے نکاح کا پیغام بھیجا اس بات کی اطلاع سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ملی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں انہوں نے عرض کی: لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی صاحب زادیوں کی وجہ سے غصے میں نہیں آتے یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ابوجہل کی بیٹی کے ساتھ شادی کرنے لگے ہیں۔
سیدنا مسور رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلمہ شہادت پڑھا اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور ارشاد فرمایا: ” میں نے ابوالعاص کے ساتھ اپنی بیٹی کی شادی کی اس نے جب بھی میرے ساتھ بات چیت کی سچ بولا: فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے اللہ کی قسم! کسی بھی مسلمان شخص کے ہاں اللہ کے رسول کی صاحب زادی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔ “ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس پیغام نکاح سے باز آ گئے۔
سیدنا مسور رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلمہ شہادت پڑھا اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور ارشاد فرمایا: ” میں نے ابوالعاص کے ساتھ اپنی بیٹی کی شادی کی اس نے جب بھی میرے ساتھ بات چیت کی سچ بولا: فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے اللہ کی قسم! کسی بھی مسلمان شخص کے ہاں اللہ کے رسول کی صاحب زادی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔ “ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس پیغام نکاح سے باز آ گئے۔