کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - ذکر بیان کہ اگر علی رضی اللہ عنہ نے یہ فعل کیا ہوتا تو یہ جائز ہوتا، لیکن صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کی تعظیم کی وجہ سے اسے ناپسند کیا، نہ کہ اس فعل کو حرام کیا
حدیث نمبر: 6956
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ حَدَّثَهُ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ عَلَى فَاطِمَةَ ، قَالَ : فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ يَخْطُبُ فِي ذَلِكَ عَلَى مِنْبَرِهِ ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ كالْمُحْتَلِمِ ، فَقَالَ : " إِِنَّ فَاطِمَةَ مِنِّي ، وَإِِنِّي أَخَافُ أَنْ تُفْتَنَ فِي دِينِهَا ، وَذَكَرَ صِهْرًا لَهُ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ فَأَثْنَى عَلَيْهِ فِي مُصَاهَرَتِهِ ، فَأَحْسَنَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي ، وَوَعَدَنِي فَوَفَى لِي ، وَإِِنِّي لَسْتُ أُحَرِّمُ حَلالا وَلا أُحِلُّ حَرَامًا ، وَلَكِنْ وَاللَّهِ لا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ مَكَانًا وَاحِدًا أَبَدًا " .
سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ عنہ، سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا (کے ساتھ شادی کے بعد) ابوجہل کی بیٹی کے لئے نکاح کا پیغام بھیجا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: میں ان دنوں قریب البلوغ تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ مجھ سے ہے اور مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ اسے اس کے دین کے حوالے سے آزمائش میں مبتلا کیا جائے گا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبدالشمس سے تعلق رکھنے والے اپنے داماد کا ذکر کیا اور ان کے دامادی کے سلوک کی تعریف کی اور اچھائی بیان کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے جب بھی میرے ساتھ بات کی سچ بات کی اور میرے ساتھ وعدہ کیا، تو وعدہ پورا کیا، میں کسی حلال چیز کو حرام قرار نہیں دیتا اور نہ ہی کسی حرام چیز کو حلال قرار دیتا ہوں لیکن اللہ کے رسول کی صاحب زادی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک ہی جگہ کبھی اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔