کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے
حدیث نمبر: 6954
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ ، فَسَارَّهَا بِشَيْءٍ فَبَكَتْ ، ثُمَّ دَعَاهَا فَسَارَّهَا بِشَيْءٍ فَضَحِكَتْ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَسَأَلْتُهَا عَنْ ذَلِكَ بَعْدَهُ ، فَقَالَتْ : سَارَّنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَ مَرَّةٍ ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُقْبَضُ فِي مَرَضِهِ فَبَكَيْتُ ، ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِهِ لُحُوقًا بِهِ فَضَحِكَتُ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس بیماری کے دوران سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا جس بیماری کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرگوشی میں ان کے ساتھ کوئی بات کی تو وہ رونے لگ پڑیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور ان کے ساتھ سرگوشی میں کوئی اور بات کی تو وہ ہنسنے لگ پڑیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: بعد میں، میں نے فاطمہ سے اس بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی مرتبہ سرگوشی میں مجھے بتایا کہ اسی بیماری کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو جائے گا، تو میں رونے لگ پڑی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ سرگوشی کرتے ہوئے یہ بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ میں سب سے پہلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آ کر ملوں گی، تو میں ہنس پڑی۔