کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اس امت سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ذریعے نجوٰی سے پہلے صدقہ کے ذریعے تخفیف کی
حدیث نمبر: 6941
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلْقَمَةَ الأَنْمَارِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً سورة المجادلة آية 12 ، قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا تَرَى دِينَارًا ؟ قُلْتُ : لا يُطِيقُونَهُ ، قَالَ : فَكَمْ ؟ قُلْتُ : شَعِيرَةٌ ، قَالَ : إِِنَّكَ لَزَهِيدٌ ، فَنَزَلَتْ أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَات سورة المجادلة آية 13 ٍ الآيَةَ ، قَالَ : " فَبِي خَفَّفَ اللَّهُ عَنْ هَذِهِ الأُمَّةِ " .
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: ” اے ایمان والو! جب تم رسول کے ساتھ سرگوشی میں کوئی بات کرو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کوئی چیز نذر پیش کر دیا کرو۔ “ اس سے مراد نذر پیش کرنا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا: تمہاری کیا رائے ہے یہ نذر ایک دینار ہونی چاہئے؟ میں نے کہا: لوگ اس کی طاقت نہیں رکھیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: پھر کتنی ہونی چاہئے؟ میں نے کہا: کچھ جَو ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم زیادہ کم کر رہے ہو، تو یہ آیت نازل ہوئی: ” کیا تم اس بات سے ڈر گئے کہ تم اپنی سرگوشی سے پہلے نذر پیش کرو۔ “ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، تو میری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس امت کی تخفیف کر دی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 6941
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «الترمذي» (3297). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6902»
حدیث نمبر: 6942
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو صَخْرَةَ بِبَغْدَادَ بَيْنَ الصُّورَيْنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ عُثْمَانَ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلْقَمَةَ الأَنْمَارِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً سورة المجادلة آية 12 ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ : يَا عَلِيُّ ، " مُرْهُمْ أَنْ يَتَصَدَّقُوا " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِكَمْ ؟ قَالَ : بِدِينَارٍ ، قَالَ : لا يُطِيقُونَهُ ، قَالَ : فَبِنِصْفِ دِينَارٍ ، قَالَ : لا يُطِيقُونَهُ ، قَالَ : فَبِكَمْ ؟ قَالَ : بِشَعِيرَةٍ ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ : إِِنَّكَ لَزَهِيدٌ ، قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ : أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ فَإِذْ لَمْ تَفْعَلُوا وَتَابَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَأَقِيمُوا الصَّلاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ سورة المجادلة آية 13 ، قَالَ : فَكَانَ عَلِيٌّ ، يَقُولُ : " بِي خُفِّفَ عَنْ هَذِهِ الأُمَّةِ " .
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: ” اے ایمان والو! جب تم رسول سے سرگوشی کرو تو نذر پیش کر دو۔ “ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: اے علی ان لوگوں سے کہو وہ صدقہ کریں (یعنی نذر پیش کریں) انہوں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! کتنی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک دینار۔ میں نے عرض کی: لوگ اس کی طاقت نہیں رکھیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نصف دینار۔ انہوں نے عرض کی: لوگ اس کی بھی طاقت نہیں رکھیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر کتنی ہونی چاہئے۔ انہوں نے عرض کی: کچھ جَو ہوں۔ راوی کہتے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم بہت زیادہ کمی کر رہے ہو۔ راوی کہتے ہیں: پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ” کیا تم اس بات سے ڈر گئے کہ سرگوشی سے پہلے نذر پیش کرو جب تم ایسا نہیں کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری توبہ کو قبول کرے گا تم لوگ نماز قائم کرو زکوۃ ادا کرو۔ “ سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہ فرماتے تھے: میری وجہ سے اس امت سے تخفیف ہوئی ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 6942
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6903»