کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - ذکر بیان کہ خوارج اللہ جل وعلا کے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض مخلوق ہیں
حدیث نمبر: 6939
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَذَكَرَ ابْنُ سَلْمٍ آخَرَ مَعَهُ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَدَّثَهُ أَنَّ الْحَرُورِيَّةَ لَمَّا خَرَجَتْ وَهُوَ مَعَ عَلِيٍّ ، فَقَالُوا : لا حُكْمَ إِِلا لِلَّهِ ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : كَلِمَةُ حَقٍّ أُرِيدَ بِهَا بَاطِلٌ ، إِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَ أُنَاسًا إِِنِّي لأَعْرِفُ وَصْفَهُمْ فِي هَؤُلاءِ : " يَقُولُونَ الْحَقَّ بِأَلْسِنَتِهِمْ ، لا يَجُوزُ هَذَا مِنْهُمْ وَأَشَارَ إِِلَى حَلْقِهِ ، مِنْ أَبْغَضِ خَلْقِ اللَّهِ إِِلَيْهِ ، فِيهِمْ أَسْوَدُ إِِحْدَى يَدَيْهِ حَلَمَةُ ثَدْيٍ " ، فَلَمَّا قَتَلَهُمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : انْظُرُوا ، فَنَظَرُوا فَلَمْ يَجِدُوا ، فَقَالَ : ارْجِعُوا ، فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلا كُذِبْتُ ، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاثًا ، ثُمَّ وَجَدُوهُ فِي خَرِبَةٍ ، فَأَتَوْا بِهِ حَتَّى وَضَعُوهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : وَأَنَا حَاضِرٌ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِهِمْ وَقَوْلِ عَلِيٍّ فِيهِمْ .
سیدنا عبیداللہ بن ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب حروریہ (یعنی خارجیوں) نے ظہور کیا، تو وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے ان لوگوں نے کہا: ثالث صرف اللہ تعالیٰ ہو سکتا ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: الفاظ حق ہیں لیکن اس کے ذریعے باطل مفہوم مراد لیا جا رہا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کا حلیہ بیان کیا تھا میں ان لوگوں میں وہ والے حلیے کو دیکھ رہا ہوں یہ لوگ اپنی زبانوں کے ذریعے حق بیان کرتے ہیں: (یعنی قرآن پڑھتے ہیں) لیکن وہ اس سے آگے نہیں جاتا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے حلق کی طرف اشارہ کر کے یہ کہا: اور وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی مخلوق کے سب سے زیادہ ناپسندیدہ لوگ ہیں ان میں ایک سیاہ فام شخص ہے جس کا ایک ہاتھ عورت کی چھاتی کی طرح ہے، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو قتل کر دیا تو فرمایا اس بات کا جائزہ لو جب انہوں نے جائزہ لیا تو انہیں وہ شخص نہیں ملا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم لوگ واپس جاؤ اللہ کی قسم! نہ تو میں نے غلط بیانی کی ہے اور نہ ہی میرے ساتھ غلط بیانی کی گئی ہے یہ بات انہوں نے دو یا شاید تین مرتبہ ارشاد فرمائی پھر ایسا شخص ان لوگوں کو ایک کھنڈر میں مل گیا وہ لوگ اسے لے کر آئے یہاں تک کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے رکھ دیا۔
عبیداللہ نامی راوی کہتے ہیں: میں ان (خوارج) کے واقعہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ان کے بارے میں اس بیان کے وقت موجود تھا۔
عبیداللہ نامی راوی کہتے ہیں: میں ان (خوارج) کے واقعہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ان کے بارے میں اس بیان کے وقت موجود تھا۔