کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - ذکر بیان کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان مسلمانوں کے ناصر تھے جنہوں نے ان کی نصرت کی
حدیث نمبر: 6929
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ عَلِيًّا ، قَالَ : فَمَضَى عَلِيٌّ فِي السَّرِيَّةِ ، فَأَصَابَ جَارِيَةً ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : إِِذَا لَقِينَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبَرْنَاهُ بِمَا صَنَعَ عَلِيٌّ ، قَالَ عِمْرَانُ : وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِِذَا قَدِمُوا مِنْ سَفَرٍ بَدَءُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَلَّمُوا عَلَيْهِ وَنَظَرُوا إِِلَيْهِ ، ثُمَّ يَنْصَرِفُونَ إِِلَى رِحَالِهِمْ ، فَلَمَّا قَدِمَتِ السَّرِيَّةُ سَلَّمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ أَحَدُ الأَرْبَعَةِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَمْ تَرَ أَنَّ عَلِيًّا صَنَعَ كَذَا وَكَذَا ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، ثُمَّ قَامَ آخَرُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَمْ تَرَ أَنَّ عَلِيًّا صَنَعَ كَذَا وَكَذَا ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، ثُمَّ قَامَ آخَرُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَمْ تَرَ أَنَّ عَلِيًّا صَنَعَ كَذَا وَكَذَا ، فَأَقْبَلَ إِِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْغَضَبُ يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ ، فقَالَ : مَا تُرِيدُونَ مِنْ عَلِيٍّ ثَلاثًا " إِِنَّ عَلِيًّا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ ، وَهُوَ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِي " .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگی مہم روانہ کی ان کا امیر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس مہم میں تشریف لے گئے انہوں نے ایک کنیز کے ساتھ صحبت کر لی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے ان کی اس حرکت کو غلط قرار دیا انہوں نے یہ کہا: جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے تو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتائیں گے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایسا کیا ہے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مسلمان جب کسی سفر سے واپس آتے تھے، تو وہ سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرتے تھے پھر اپنی رہائش گاہوں کی طرف واپس جاتے تھے جب وہ مہم واپس آئی تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا ان چار افراد میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ملاحظہ نہیں فرمائی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایسا ایسا کیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ پھیر لیا پھر دوسرے صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ملاحظہ نہیں فرمائی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایسا ایسا کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بھی منہ پھیر لیا پھر ایک اور صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملاحظہ نہیں فرمایا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایسا ایسا کیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غصے کے آثار نمایاں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ علی کے بارے میں کیا چاہتے ہو؟ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمائی، بے شک علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں اور وہ میرے بعد ہر مومن کا محبوب ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 6929
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2223). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6890»