کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - ذکر اس وقت کی جو مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قول سے خطاب کیا
حدیث نمبر: 6927
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : خَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تُخَلِّفُنِي فِي النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ ؟ فَقَالَ : " أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى ، إِِلا أَنَّهُ لا نَبِيَّ بَعْدِي " .
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ تبوک کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے مدینہ منورہ کا (نگران) مقرر کیا، تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پیچھے بچوں اور خواتین میں چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہو جو سیدنا ہارون علیہ السلام کو سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے تھی، البتہ یہ ہے: میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔