کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے علی کو ابو تراب کہا
حدیث نمبر: 6925
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلِيلٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ رَجُلا جَاءَهُ ، فَقَالَ : هَذَا فُلانٌ أَمِيرٌ مِنْ أُمَرَاءِ الْمَدِينَةِ يَدْعُوكَ لتَسُبَّ عَلِيًّا عَلَى الْمِنْبَرِ ، قَالَ : أَقُولُ مَاذَا ؟ قَالَ : تَقُولُ لَهُ : أَبُو تُرَابٍ ، فَضَحِكَ سَهْلٌ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ ، مَا سَمَّاهُ إِِيَّاهُ إِِلا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَا كَانَ لِعَلِيٍّ اسْمٌ أَحَبَّ إِِلَيْهِ مِنْهُ ، دَخَلَ عَلِيٌّ عَلَى فَاطِمَةَ ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ ، فَقَالَ : أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ ؟ قَالَتْ : هُوَ ذَا مُضْطَجِعٌ فِي الْمَسْجِدِ ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَوَجَدَ رِدَاءَهُ قَدْ سَقَطَ عَنْ ظَهْرِهِ ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ التُّرَابَ عَنْ ظَهْرِهِ ، وَيَقُولُ : اجْلِسْ أَبَا تُرَابٍ " ، وَاللَّهِ مَا كَانَ اسْمٌ أَحَبَّ إِِلَيْهِ مِنْهُ ، مَا سَمَّاهُ إِِيَّاهُ إِِلا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: یہ فلاں شخص یعنی مدینہ منورہ کا گورنر اس نے آپ کو بلایا ہے تاکہ آپ منبر پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا کہیں۔ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: میں کیا کہوں۔ اس نے کہا: آپ نے انہیں ابوتراب کہنا ہے، تو سیدنا سہل رضی اللہ عنہ ہنس پڑے، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ نام تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھا تھا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ نام سب سے زیادہ محبوب تھا۔ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے پھر وہ (گھر سے) باہر چلے گئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور بولے: تمہارے چچازاد کہاں ہیں۔ انہوں نے بتایا: وہ مسجد میں سو رہے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایسی حالت میں پایا کہ ان کی چادر ان کے پہلو سے ہٹی ہوئی تھی (اور ان کے جسم پر مٹی لگی ہوئی تھی) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی پشت سے مٹی کو پونچھنا شروع کیا اور فرمایا: اے ابوتراب اٹھ جاؤ۔
(سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے بتایا:) اللہ کی قسم! سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس سے زیادہ محبوب نام اور کوئی نہیں تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا یہ نام رکھا تھا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 6925
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح الأدب المفرد» (654/ 852). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6886»