کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - ذکر کہ علی اور فاطمہ رضی اللہ عنہما اس وقت رات کو کیا پہنتے تھے
حدیث نمبر: 6922
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتَرَ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانَيُّ ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ السَّمَّانُ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبِيْدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : شَكَتْ لِي فَاطِمَةُ مِنَ الطَّحِينِ ، فَقُلْتُ لَوْ أَتَيْتِ أَبَاكِ فَسَأَلْتِيهِ خَادِمًا ، قَالَ : فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ تُصَادِفْهُ ، فَرَجَعَتْ مَكَانَهَا ، فَلَمَّا جَاءَ أُخْبِرَ ، فَأَتَانَا وَعَلَيْنَا قَطِيفَةٌ إِِذَا لَبِسْنَاهَا طُولا خَرَجَتْ مِنْهَا جُنُوبُنَا ، وَإِِذَا لَبِسْنَاهَا عَرْضًا خَرَجَتْ مِنْهَا أَقْدَامُنَا وَرُءُوسُنَا ، قَالَ : يَا فَاطِمَةُ ، أُخْبِرْتُ أَنَّكِ جِئْتِ ، فَهَلْ كَانَتْ لَكِ حَاجَةٌ ؟ قَالَتْ : لا ، قُلْتُ : بَلَى ، شَكَتْ إِِلَيَّ مِنَ الطَّحِينِ ، فَقُلْتُ : لَوْ أَتَيْتِ أَبَاكِ فَسَأَلْتِيهِ خَادِمًَا ، فَقَالَ : " أَفَلا أَدُلُّكُمَا عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ ؟ إِِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا تَقُولانِ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ ، وَثَلاثًا وَثَلاثِينَ ، وَأَرْبَعًا وَثَلاثِينَ ، تَسْبِيحَةً ، وَتَحْمِيدَةً ، وَتَكْبِيرَةً " .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو چکی پیسنے میں مشکل پیش آتی تھی، میں نے کہا: اگر آپ اپنے والد کے پاس جائیں ان سے کوئی خادم مانگ لیں (تو یہ مناسب ہو گا) سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیده فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں لیکن ان کی ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ہوئی تو وہ اپنے گھر واپس آ گئیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے ہم نے اپنے اوپر ایک چادر لی ہوئی تھی کہ جب ہم لمبائی کی سمت میں اسے لیتے تھے تو ہمارے پہلو اس سے ظاہر ہو جاتے تھے اور جب ہم چوڑائی کی سمت میں لیتے تھے تو ہمارے پاؤں اور سر ظاہر ہو جاتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے فاطمہ مجھے پتہ چلا کہ تم آئی تھیں کیا تمہیں کوئی کام تھا۔ انہوں نے عرض کی: جی نہیں۔ میں نے کہا: جی ہاں تھا۔ انہوں نے میرے سامنے چکی پیسنے کی شکایت کی تھی، تو میں نے کہا: اگر تم اپنے والد کے پاس جاؤ اور ان سے کوئی خادم مانگ لو (تو یہ مناسب ہو گا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں تم دونوں کی رہنمائی اس چیز کی طرف نہ کروں جو تم دونوں کے لئے خادم ملنے سے زیادہ بہتر ہے، جب تم بستر پر جاؤ تو 33 مرتبہ سبحان الله، 33 مرتبہ الحمدللہ اور 34 مرتبہ اللہ اکبر پڑھ لیا کرو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 6922
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعقيب على حجاب المودودي» (ص 427). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6883»