کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - ذکر عثمان بن عفان کا رومہ کو مسلمانوں کے لیے وقف کرنا
حدیث نمبر: 6919
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، قَالا : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى أَبِي أُسَيْدٍ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : " سَمِعَ عُثْمَانُ أَنَّ وَفْدَ أَهْلَ مِصْرَ قَدْ أَقْبَلُوا فَاسْتَقْبَلَهُمْ ، فَلَمَّا سَمِعُوا بِهِ ، أَقْبَلُوا نَحْوَهُ إِِلَى الْمَكَانِ الَّذِي هُوَ فِيهِ ، فَقَالُوا لَهُ : ادْعُ الْمُصْحَفَ ، فَدَعَا بِالْمُصْحَفِ ، فَقَالُوا لَهُ : افْتَحِ السَّابِعَةَ ، قَالَ : وَكَانُوا يُسَمُّونَ سُورَةَ يُونُسَ السَّابِعَةَ ، فَقَرَأَهَا حَتَّى أَتَى عَلَى هَذِهِ الآيَةِ : قُلْ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْهُ حَرَامًا وَحَلالا قُلْ آللَّهُ أَذِنَ لَكُمْ أَمْ عَلَى اللَّهِ تَفْتَرُونَ سورة يونس آية 59 ، قَالُوا لَهُ : قِفْ ، أَرَأَيْتَ مَا حَمَيْتَ مِنَ الْحِمَى ، آللَّهُ أَذِنَ لَكَ بِهِ أَمْ عَلَى اللَّهِ تَفْتَرِي ؟ فَقَالَ : أَمْضِهِ ، نَزَلَتْ فِي كَذَا وَكَذَا ، وَأَمَّا الْحِمَى لإِِبِلِ الصَّدَقَةِ ، فَلَمَّا وَلَدَتْ زَادَتْ إِِبِلُ الصَّدَقَةِ ، فَزِدْتُ فِي الْحِمَى لَمَّا زَادَ فِي إِِبِلِ الصَّدَقَةِ ، أَمْضِهِ ، قَالُوا : فَجَعَلُوا يَأْخُذُونَهُ بِآيَةٍ آيَةٍ ، فَيَقُولُ : أَمْضِهِ نَزَلَتْ فِي كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ لَهُمْ : مَا تُرِيدُونَ ؟ قَالُوا : مِيثَاقَكَ ، قَالَ : فَكَتَبُوا عَلَيْهِ شَرْطًا ، فَأَخَذَ عَلَيْهِمْ أَنْ لا يَشُقُّوا عَصًا ، وَلا يُفَارِقُوا جَمَاعَةً مَا قَامَ لَهُمْ بِشَرْطِهِمْ ، وَقَالَ لَهُمْ : مَا تُرِيدُونَ ؟ قَالُوا : نُرِيدُ أَنْ لا يَأْخُذَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ عَطَاءً ، قَالَ : لا ، إِِنَّمَا هَذَا الْمَالُ لِمَنْ قَاتَلَ عَلَيْهِ وَلِهَؤُلاءِ الشِّيُوخِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَرَضُوا وَأَقْبَلُوا مَعَهُ إِِلَى الْمَدِينَةِ رَاضِينَ ، قَالَ : فَقَامَ ، فَخَطَبَ ، فَقَالَ : أَلا مَنْ كَانَ لَهُ زَرْعٌ فَلْيَلْحَقْ بِزَرْعِهِ ، وَمَنْ كَانَ لَهُ ضَرْعٌ فَلْيَحْتَلِبْهُ ، أَلا إِِنَّهُ لا مَالَ لَكُمْ عِنْدَنَا ، إِِنَّمَا هَذَا الْمَالُ لِمَنْ قَاتَلَ عَلَيْهِ ، وَلِهَؤُلاءِ الشِّيُوخِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَغَضِبَ النَّاسُ ، وَقَالُوا : هَذَا مَكْرُ بَنِي أُمَيَّةَ ، قَالَ : ثُمَّ رَجَعَ الْمِصْرِيُّونَ ، فَبَيْنَمَا هُمْ فِي الطَّرِيقِ إِِذَا هُمْ بِرَاكِبٍ يَتَعَرَّضُ لَهُمْ ، ثُمَّ يُفَارِقُهُمْ ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِِلَيْهِمْ ، ثُمَّ يُفَارِقُهُمْ وَيَسُبُّهُمْ ، قَالُوا : مَا لَكَ ، إِِنَّ لَكَ الأَمَانَ ، مَا شَأْنُكَ ؟ قَالَ : أَنَا رَسُولُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ إِِلَى عَامِلِهِ بِمِصْرَ ، قَالَ : فَفَتَّشُوهُ ، فَإِِذَا هُمْ بِالْكِتَابِ عَلَى لِسَانِ عُثْمَانَ عَلَيْهِ خَاتَمُهُ إِِلَى عَامِلِهِ بِمِصْرَ أَنْ يَصْلِبَهُمْ أَوْ يَقْتُلَهُمْ أَوْ يَقْطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ ، فَأَقْبَلُوا حَتَّى قَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَأَتَوْا عَلِيًّا ، فَقَالُوا : أَلَمْ تَرَ إِِلَى عَدُوِّ اللَّهِ كَتَبَ فِينَا بِكَذَا وَكَذَا ، وَإِِنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَلَّ دَمَهُ ، قُمْ مَعَنَا إِِلَيْهِ ، قَالَ : وَاللَّهِ لا أَقُومُ مَعَكُمْ ، قَالُوا : فَلِمَ كَتَبْتَ إِِلَيْنَا ؟ قَالَ : وَاللَّهِ مَا كَتَبْتُ إِِلَيْكُمْ كِتَابًا قَطُّ ، فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِِلَى بَعْضٍ ، ثُمَّ قَالَ بَعْضُهُمْ إِِلَى بَعْضٍ : أَلِهَذَا تُقَاتِلُونَ ، أَوْ لِهَذَا تَغْضَبُونَ ؟ فَانْطَلَقَ عَلِيٌّ فَخَرَجَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِِلَى قَرْيَةٍ ، وَانْطَلَقُوا حَتَّى دَخَلُوا عَلَى عُثْمَانَ ، فَقَالُوا : كَتَبْتَ بِكَذَا وَكَذَا ؟ فَقَالَ : إِِنَّمَا هُمَا اثْنَتَانِ ، أَنْ تُقِيمُوا عَلَيَّ رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، أَوْ يَمِينِي بِاللَّهِ الَّذِي لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ مَا كَتَبْتُ وَلا أَمْلَيْتُ وَلا عَلِمْتُ ، وَقَدْ تَعْلَمُونَ أَنَّ الْكِتَابَ يُكْتَبُ عَلَى لِسَانِ الرَّجُلِ ، وَقَدْ يُنْقَشُ الْخَاتَمُ عَلَى الْخَاتَمِ ، فَقَالُوا : وَاللَّهِ ، أَحَلَّ اللَّهُ دَمَكَ ، وَنَقَضُوا الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ فَحَاصَرُوهُ ، فَأَشْرَفَ عَلَيْهِمْ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَقَالَ : السَّلامُ عَلَيْكُمْ ، فَمَا أَسْمَعُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلامَ ، إِِلا أَنْ يَرُدَّ رَجُلٌ فِي نَفْسِهِ ، فَقَالَ : " أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ ، هَلْ عَلِمْتُمْ أَنِّي اشْتَرَيْتُ رُومَةَ مِنْ مَالِي ، فَجَعَلْتُ رِشَائِي فِيهَا كَرِشَاءِ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ؟ قِيلَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَعَلامَ تَمْنَعُونِي أَنْ أَشْرَبَ مِنْهَا حَتَّى أُفْطِرَ عَلَى مَاءِ الْبَحْرِ ؟ أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ ، هَلْ عَلِمْتُمْ أَنِّي اشْتَرَيْتُ كَذَا وَكَذَا مِنَ الأَرْضِ فَزِدْتُهُ فِي الْمَسْجِدِ ؟ قِيلَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَهَلْ عَلِمْتُمْ أَنَّ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ مُنِعَ أَنْ يُصَلِّيَ فِيهِ قَبْلِي ؟ " ، أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ ، هَلْ سَمِعْتُمْ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ كَذَا وَكَذَا ؟ أَشْيَاءَ فِي شَأْنِهِ عَدَّدَهَا ، قَالَ : وَرَأَيْتُهُ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ مَرَّةً أُخْرَى فَوَعَظَهُمْ وَذَكَّرَهُمْ ، فَلَمْ تَأْخُذْ مِنْهُمُ الْمَوْعِظَةُ ، وَكَانَ النَّاسُ تَأْخُذُ مِنْهُمُ الْمَوْعِظَةُ فِي أَوَّلِ مَا يَسْمَعُونَهَا ، فَإِِذَا أُعِيدَتْ عَلَيْهِمْ لَمْ تَأْخُذْ مِنْهُمْ ، فَقَالَ لامْرَأَتِهِ : افْتَحِي الْبَابَ ، وَوَضَعَ الْمُصْحَفَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَذَلِكَ أَنَّهُ رَأَى مِنَ اللَّيْلِ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ لَهُ : أَفْطِرْ عِنْدَنَا اللَّيْلَةَ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ ، فَقَالَ : بَيْنِي وَبَيْنَكَ كِتَابُ اللَّهِ ، فَخَرَجَ وَتَرَكَهُ ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِ آخَرُ ، فَقَالَ : بَيْنِي وَبَيْنَكَ كِتَابُ اللَّهِ ، وَالْمُصْحَفُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، قَالَ : فَأَهْوَى لَهُ بِالسَّيْفِ ، فَاتَّقَاهُ بِيَدِهِ فَقَطَعَهَا ، فَلا أَدْرِي أَقْطَعَهَا وَلَمْ يُبِنْهَا ، أَمْ أَبَانَهَا ؟ قَالَ عُثْمَانُ : أَمَا وَاللَّهِ إِِنَّهَا لأَوَّلُ كَفٍّ خَطَّتِ الْمُفَصَّلَ ، وَفِي غَيْرِ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ : فَدَخَلَ عَلَيْهِ التُّجِيبِيُّ فَضَرَبَهُ مِشْقَصًا ، فَنَضَحَ الدَّمُ عَلَى هَذِهِ الآيَةِ : فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ سورة البقرة آية 137 ، قَالَ : وَإِِنَّهَا فِي الْمُصْحَفِ مَا حُكَّتْ ، قَالَ : وَأَخَذَتْ بِنْتُ الْفُرَافِصَةِ ، فِي حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ : حُلِيَّهَا وَوَضَعَتْهُ فِي حِجْرِهَا ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُقْتَلَ ، فَلَمَّا قُتِلَ ، تَفَاجَّتْ عَلَيْهِ ، قَالَ بَعْضُهُمْ : قَاتَلَهَا اللَّهُ ، مَا أَعْظَمَ عَجِيزَتَهَا ، فَعَلِمْتُ أَنَّ أَعْدَاءَ اللَّهِ لَمْ يُرِيدُوا إِِلا الدُّنْيَا .
ابوسعید جو سیدنا ابواسید انصاری رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں وہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو سنا اہل مصر کا وفد آیا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کا استقبال کیا جب انہوں نے آپ کے احکام سن لیے تو وہ اس مقام کی طرف گئے جس میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ موجود تھے ان لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ قرآن پاک منگوائیے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن منگوایا تو انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ساتویں سورت کھولیے وہ لوگ سورۃ یونس کو ساتویں سورت کا نام دیتے تھے انہوں نے: تلاوت شروع کی یہاں تک اس آیت تک پہنچے۔ ” تم یہ فرما دو تمہارا کیا خیال ہے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے جو رزق نازل کیا ہے اور اس میں سے کچھ چیزوں کو حرام قرار دیا ہے اور کچھ کو حلال قرار دیا ہے، تو تم یہ فرما دو کہ کیا اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی اجازت دی ہے یا تم اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرتے ہو۔ “ ان لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا: ٹھہر جائیے آپ کا کیا خیال ہے کیا آپ نے کوئی چراگاہ مخصوص کی ہے کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس بات کی اجازت دی ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹی بات منسوب کر رہے ہیں۔
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم لوگ آگے چلو یہ آیت فلاں فلاں چیز کے بارے میں نازل ہوئی تھی، جہاں تک چراگاہ کا تعلق ہے، تو وہ صدقے کے اونٹوں کے لیے ہے، جب وہ بچے کو جنم دیں گے تو صدقے کے اونٹ زیادہ ہو جائیں گے تو صدقے کے اونٹوں میں اضافہ ہونے کی وجہ سے میں نے چراگاہ میں بھی اضافہ کر دیا تم لوگ آگے چلو تو وہ لوگ ایک ایک آیت لیتے رہے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ یہ کہتے رہے تم لوگ آگے چلو (یا تم جاری رکھو) یہ آیت فلاں فلاں چیز کے بارے میں نازل ہوئی تھی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا: تم لوگ کیا چاہتے ہو۔ انہوں نے کہا: ہم آپ سے پختہ عہد لینا چاہتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: تو ان لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے شرائط تحریر کیں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے عہد لیا کہ وہ عصا کو (یعنی مسلمانوں کی اجتماعیت کو) توڑیں گے نہیں اور ان کی جماعت سے علیحدگی اختیار نہیں کریں گے، جب تک سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ ان کی شرائط کی پاس داری کرتے رہیں گے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا: تم لوگ کیا چاہتے ہو انہوں نے کہا: ہم لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اہل مدینہ تنخواہ نہ لیا کریں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ نہیں ہو سکتا، کیونکہ یہ وہ مال ہے جو اس شخص کو ملے گا، جس نے جنگ میں حصہ لیا ہو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے عمر رسیدہ افراد کو ملے گا۔ راوی کہتے ہیں: تو وہ لوگ راضی ہو گئے اور وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف راضی ہوتے ہوئے آئے۔ راوی کہتے ہیں: پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے خطبہ دیا اور فرمایا: خبردار جس شخص کی زرعی زمین ہو وہ اپنی زرعی زمین پر چلا جائے اور جس شخص کے پاس جانور ہوں وہ ان کا دودھ دوہ لے، خبردار تمہارا کوئی مال ہمارے پاس نہیں ہے یہ مال اس شخص کو ملے گا، جس نے جنگ میں حصہ لیا ہو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے بزرگوں کو ملے گا۔ راوی کہتے ہیں: تو وہ لوگ غصے میں آ گئے اور بولے: یہ تو بنوامیہ کا فریب ہے۔ راوی کہتے ہیں: پھر مصری لوگ واپس چلے گئے ابھی وہ راستے میں ہی تھے کہ اسی دوران ایک سوار ان کے سامنے آیا پھر وہ ان سے جدا ہو گیا پھر وہ واپس ان کے پاس آیا پھر وہ ان سے جدا ہو گیا اور انہیں برا کہنے لگا۔ ان لوگوں نے دریافت کیا: تمہارا کیا معاملہ ہے تمہیں امان حاصل ہے تمہارا کیا معاملہ ہے۔ اس نے کہا: میں امیر المؤمنین کا قاصد ہوں جو مصر کے گورنر کی طرف جا رہا ہوں۔ راوی کہتے ہیں: ان لوگوں نے اس شخص کی تلاشی لی تو اس کے پاس ایک خط موجود تھا جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے لکھا گیا تھا اس پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مہر بھی لگی ہوئی تھی یہ مصر کے گورنر کے نام خط تھا کہ وہ ان مصریوں کو پھانسی دیدے یا انہیں قتل کروا دے یا ان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دے، تو وہ لوگ واپس آئے، یہاں تک کہ مدینہ منورہ آ گئے وہ لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے: کہ آپ نے اللہ کے اس دشمن کی طرف دیکھا کہ اس نے ہمارے بارے میں اس اس طرح کا خط لکھا ہے، بے شک اللہ تعالیٰ نے اس کے خون کو حلال قرار دیا ہے۔ آپ ہمارے ساتھ اٹھ کر ان کی طرف جائیے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں تمہارے ساتھ نہیں اٹھوں گا۔ ان لوگوں نے کہا: پھر آپ نے ہماری طرف خط کیوں لکھا تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم! میں نے تو تمہیں کبھی کوئی خط نہیں لکھا تو وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے پھر ان میں سے کسی ایک نے دوسرے سے کہا: کیا تم اس شخص کے لیے جنگ کرنا چاہتے ہو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اس شخص کے لیے غصہ کرتے ہو۔
پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ اٹھے اور مدینہ منورہ سے باہر ایک بستی کی طرف تشریف لے گئے وہ لوگ اٹھے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے: آپ نے اس اس طرح کا خط لکھا ہے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: دو صورتیں ہیں یا تو یہ ہے: تم مسلمانوں میں سے دو آدمیوں کو میرے خلاف گواہ کے طور پر پیش کر دو یا پھر یہ ہے: میں اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر یہ کہتا ہوں جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے کہ نہ تو میں نے خط لکھا ہے اور نہ اسے املاء کروایا ہے اور نہ ہی مجھے اس کا علم ہے تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ کسی دوسرے کے نام سے بھی خط لکھا جا سکتا ہے اور ایک انگوٹھی کے مطابق دوسری انگوٹھی کا نقش بنوایا جا سکتا ہے ان لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے آپ کے خون کو حلال قرار دیدیا ہے، پھر ان لوگوں نے عہد اور کئے ہوئے معاہدے کو توڑ دیا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کر لیا۔ ایک دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کی طرف جھانک کر دیکھا اور بولے: السلام علیکم (راوی کہتے ہیں:) میں نے کسی شخص کو نہیں سنا جس نے ان کے سلام کا جواب دیا ہو ماسوائے اس کے کہ کسی نے دل میں سلام کا جواب دیدیا ہو۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ میں نے رومہ نامی کنواں اپنے مال میں سے خریدا تھا اور اس کے بارے میں اپنے ڈول کو مسلمانوں کے عام فرد کے ڈول کی مانند کر دیا تھا (یعنی اس کے پانی کو سب کے لئے وقف کر دیا تھا) تو کہا: گیا جی ہاں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا تو پھر تم کس بنیاد پر مجھے اس بات سے روک رہے ہو کہ میں اس میں سے پیوں، یہاں تک کہ میں نے سمندر کے پانی (یعنی کھارے پانی) کے ذریعے افطاری کی ہے میں تم لوگوں کو اللہ کے نام کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ میں نے اتنی اتنی رقم کے عوض میں زمین خرید کر مسجد میں توسیع کی تھی، جواب دیا گیا: جی ہاں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ مجھ سے پہلے کسی شخص کو اس مسجد میں نماز پڑھنے سے روکا گیا ہو میں تم لوگوں کو اللہ کے نام کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کیا تم نے اللہ کے نبی کو یہ یہ بات ذکر کرتے ہوئے نہیں سنا، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی ذات کے بارے میں کچھ چیزوں کا ذکر کیا اور انہیں شمار کروایا۔ راوی کہتے ہیں: پھر میں نے انہیں دیکھا کہ انہوں نے دوسری مرتبہ جھانک کر لوگوں کی طرف دیکھا انہیں وعظ و نصیحت کی انہیں تلقین کی لیکن کسی نے ان کے وعظ کو قبول نہیں کیا جب انہوں نے پہلی مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے وعظ سنا تھا اور لوگوں نے اسے قبول کیا تھا، لیکن جب دوبارہ ان کے سامنے دہرایا گیا تو پھر لوگوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ سے کہا: تم دروازہ کھولو، انہوں نے مصحف اپنے آگے رکھ لیا اس کی وجہ یہ تھی انہوں نے رات خواب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرما رہے ہیں آج شام تم نے ہمارے ساتھ افطاری کرنی ہے پھر ایک شخص اندر ان کے پاس آیا، تو انہوں نے فرمایا میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب ہے، تو وہ شخص نکل گیا اس نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا پھر دوسرا شخص ان کے پاس اندر آیا تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب موجود ہے اس وقت قرآن مجید ان کے آگے رکھا ہوا تھا۔ راوی کہتے ہیں: تو اس شخص نے اپنی تلوار کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف لہرایا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ کے ذریعے بچنے کی کوشش کی، اس نے ان کا ہاتھ کاٹ دیا، مجھے نہیں معلوم کہ اس نے اسے مکمل طور پر کاٹ دیا یا کچھ حصہ کاٹا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! یہ وہ پہلی ہتھیلی تھی، جس نے مفصل (سورتوں) کو تحریر کیا تھا۔
ابوسعید کے علاوہ دوسری روایت میں یہ الفاظ میں تجیبی نامی شخص اندر داخل ہوا اس نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو قینچی ماری اس کے نتیجے میں خون نکل کر اس آیت پر گرا۔ ” تو عنقریب ان لوگوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ تمہارے لئے کافی ہو گا اور وہ سنے والا اور علم رکھنے والا ہے۔ “ خون کا یہ نشان اس قرآن مجید میں موجود ہے اسے مٹایا نہیں گیا۔
ابوسعید کی روایت میں یہ الفاظ موجود ہیں: فرافصہ کی صاحب زادی (شاید اس سے مراد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ہے) نے اپنا زیور لیا اور اسے اپنی گود میں رکھ لیا یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے سے پہلے کی بات ہے، جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا تو وہ ان پر آہ و بکاہ کرنے لگی اس پر کسی نے کہا: اللہ تعالیٰ اسے برباد کرے اس کے سرین کتنے بڑے ہیں، اس سے مجھے پتہ چلا کہ اللہ کے دشمنوں کا مقصد صرف دنیا ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 6919
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - لجهالة أبي سعيد. * قال الشيخ: رجاله ثقات؛ غير أبي سعيد - مولى أبي أُسيد الأنصاري -، لم يُوثِّقهُ غير المؤلِّف (5/ 588)، ولم يَروِ عنه غير أبيه نَضْرَةَ؛ فهو مَجهولُ. وقد انشغلَ الحافظ في «لإصابة» عن بيان حالِه بالردِّ على من ادَّعى أنَّهُ صحابيٌّ! وحديث غيره - الَّذي في آخرِه - لم أَعْرِفْهُ! فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6880»