حدیث نمبر: 6916
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي إِِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ : لَمَّا حُصِرَ عُثْمَانُ وَأُحِيطَ بِدَارِهِ أَشْرَفَ عَلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : نَشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ انْتَفَضَ بِنَا حِرَاءُ ، قَالَ : " اثْبُتْ حِرَاءُ ، فَمَا عَلَيْكَ إِِلا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ " ؟ قَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، قَالَ : نَشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فِي غَزْوَةِ الْعُسْرَةِ : " مَنْ يُنْفِقْ نَفَقَةً مُتَقَبَّلَةً ؟ وَالنَّاسُ يَوْمَئِذٍ مُعْسِرُونَ مُجْهَدُونَ ، فَجَهَّزْتُ ثُلُثَ ذَلِكَ الْجَيْشِ مِنْ مَالِي " ، فَقَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، ثُمَّ قَالَ : نَشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ " رُومَةَ لَمْ يَكُنْ يُشْرَبُ مِنْهَا إِِلا بِثَمَنٍ ، فَابْتَعْتُهَا بِمَالِي ، فَجَعَلْتُهَا لِلْغَنِيِّ وَالْفَقِيرِ وَابْنِ السَّبِيلِ " ؟ فَقَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، فِي أَشْيَاءَ عَدَّدَهَا .
ابوعبدالرحمن سلمی بیان کرتے ہیں: جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کیا گیا اور ان کے گھر کو گھیر لیا گیا تو انہوں نے لوگوں کی طرف جھانک کر ارشاد فرمایا: میں تم لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمارے ساتھ حرا (پہاڑ) پر موجود تھے اور وہ ہلنے لگا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حرا! ٹھہرے رہو تمہارے اوپر ایک نبی، ایک صدیق، ایک شہید موجود ہے، تو لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! جی ہاں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تم لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے موقع پر یہ بات ارشاد فرمائی: وہ کون شخص ایسا خرچ کرے گا۔ جسے قبول کیا جائے، ان دنوں لوگ تنگ دست تھے، تو میں نے اس لشکر کے لیے ایک تہائی ساز و سامان اپنے مال میں سے تیار کیا تھا۔ لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! ایسا ہی ہے، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تم لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ رومہ نامی کنویں سے صرف قیمت دے کر پانی لیا جا سکتا تھا میں نے اپنے مال میں سے اسے خریدا اور اسے ہر خوشحال اور غریب شخص کے لیے اور مسافر کے لیے (وقف کر دیا) تو ان لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! ایسا ہی ہے، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اور بھی کچھ چیزیں گنوائیں۔