کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - ذکر خبر جو اس بات کی دلیل ہے کہ فتنوں کے وقوع پر عثمان بن عفان حق پر تھے
حدیث نمبر: 6914
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ كَهْمَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، حَدَّثَنِي هَرَمِيُّ بْنُ الْحَارِثِ ، وَأُسَامَةُ بْنُ خُرَيْمٍ ، قَالَ : كَانَا يُغَازِيَانِ ، فَحَدَّثَانِي وَلا يَشْعُرُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَنَّ صَاحِبَهُ حَدَّثَنِيهِ ، عَنْ مُرَّةَ الْبَهْزِيِّ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ ، قَالَ : " كَيْفَ تَصْنَعُونَ فِي فِتْنَةٍ تَثُورُ فِي أَقْطَارِ الأَرْضِ كَأَنَّهَا صَيَاصِي الْبَقَرِ ؟ قَالُوا : نَصْنَعُ مَاذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : عَلَيْكُمْ بِهَذَا وَأَصْحَابِهِ ، قَالَ : فَأَسْرَعْتُ حَتَّى عَطَفْتُ إِِلَى الرَّجُلِ ، قُلْتُ : هَذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : هَذَا ، فَإِِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " .
سیدنا مرہ بہزی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کے کسی راستے پر چل رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایسے فتنے کے دوران تم لوگ کیا کرو گے جو زمین پہ یوں پھیل جائے گا جیسے وہ گائے کا سینگ ہوتا ہے۔ لوگوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی ہمیں کیا کرنا چاہئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر لازم ہے کہ تم اس شخص اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ رہو (راوی کہتے ہیں:) میں تیزی سے ان صاحب کی طرف لپکا (جن کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا تھا) میں نے دریافت کیا: اے اللہ کے نبی کیا یہ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ۔ تو وہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 6914
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3118). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6875»