کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ عثمان بن عفان کی جنت کی بشارت اس وقت دی گئی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا، اس سے پہلے کہ وہ خلافت سنبھالیں اور جو کچھ ہوا
حدیث نمبر: 6911
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبَرْتِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِي : احْفَظِ الْبَابَ ، فَجَاءَ رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ ، فَقَالَ : " ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " ، فَإِِذَا أَبُو بَكْرٍ ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ ، فَقَالَ : " ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " ، فَإِِذَا عُمَرُ ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ ، قَالَ : فَسَكَتَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : " ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوًى شَدِيدَةٍ تُصِيبُهُ " ، فَإِِذَا عُثْمَانُ .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا دروازے کا دھیان رکھنا پھر ایک شخص آیا اس نے اندر آنے کی اجازت مانگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اجازت دیدو اور اسے جنت کی خوشخبری دیدو تو وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے پھر ایک اور شخص آیا اس نے اندر آنے کی اجازت مانگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسلام نے فرمایا: اسے اجازت دیدو اور اسے جنت کی خوشخبری دیدو وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے پھر ایک اور شخص آیا اس نے اندر آنے کی اجازت مانگی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اجازت دیدو اسے جنت کی خوشخبری دیدو اور ساتھ اسے ایک شدید آزمائش کا شکار ہونا پڑے گا، جو اسے لاحق ہو گی، تو وہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 6911
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6872»