کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت رضوان میں عثمان بن عفان کے لیے اپنا ایک ہاتھ دوسرے پر مار کر بیعت کی
حدیث نمبر: 6909
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ كُلَيْبِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ عَنْ عُثْمَانَ ، أَشَهِدَ بَدْرًا ؟ فَقَالَ : لا ، فَقَالَ : أَشَهِدَ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ ؟ فَقَالَ : لا ، قَالَ : كَانَ فِيمَنْ تَوَلَّى يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ الرَّجُلُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَقِيلَ لابْنِ عُمَرَ : مَا صَنَعْتَ ؟ يَنْطَلِقُ هَذَا فَيُخْبِرُ النَّاسَ أَنَّكَ تَنَقَّصْتَ عُثْمَانَ ، قَالَ : رُدُّوهُ عَلَيَّ ، فَلَمَّا جَاءَ ، قَالَ : تَحْفَظُ مَا سَأَلْتَنِي عَنْهُ ؟ فَقَالَ : " سَأَلْتُكَ عَنْ عُثْمَانَ ، أَشَهِدَ بَدْرًا ؟ فَقُلْتَ : لا ، قَالَ : فَإِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ يَوْمَ بَدْرٍ فِي حَاجَةٍ لَهُ ، وَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمٍ ، وَقَالَ : وَسَأَلْتُكَ : أَشَهِدَ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ ؟ فَقُلْتَ : لا ، قَالَ : إِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ فِي حَاجَةٍ لَهُ ، ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى يَدِهِ ، أَيَّتُهُمَا خَيْرٌ : يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ يَدُ عُثْمَانَ ؟ قَالَ : وَسَأَلْتُكَ : هَلْ كَانَ فِيمَنْ تَوَلَّى يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ ؟ فَقُلْتَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِِنَّ اللَّهَ يَقُولُ : إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ سورة آل عمران آية 155 ، اذْهَبْ فَاجْهَدْ عَلَى جَهْدِكَ " .
حبیب بن ابوملیکہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا: کیا وہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: جی نہیں۔ اس نے دریافت کیا: کیا وہ بیعت رضوان میں شریک ہوئے تھے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: جی نہیں۔ انہوں نے دریافت کیا: کیا وہ ان لوگوں میں شامل تھے جو اس دن پیچھے ہٹ گئے تھے جب دو گروہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے آئے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: جی ہاں۔ اس شخص نے کہا: اللہ اکبر، پھر وہ شخص چلا گیا۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا گیا: یہ آپ نے کیا کیا؟ اب یہ شخص جائے گا اور لوگوں کو بتائے گا کہ آپ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تنقیص کرتے ہیں، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا اسے میرے پاس بلا کر لاؤ جب وہ شخص آیا، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے جس چیز کے بارے میں مجھ سے دریافت کیا تھا: تمہیں وہ بات یاد ہے۔ اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ میں نے آپ سے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا تھا: کیا وہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے، تو آپ نے جواب دیا: جی نہیں، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے موقع پر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اپنے کسی کام سے بھیجا تھا اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے لیے (غزوہ بدر کے مال غنیمت میں) حصہ مقرر کیا تھا، اس شخص نے کہا: میں نے آپ سے یہ سوال کیا تھا کہ کیا وہ بیعت رضوان میں شریک ہوئے تھے، تو آپ نے جواب دیا: جی نہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ذاتی کام کے سلسلے میں بھیجا تھا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھ کر (سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے بیعت کی تھی) تو یہ بتاؤ کہ کون سا ہاتھ زیادہ بہتر تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ یا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ؟ اس شخص نے کہا: میں نے آپ سے دریافت کیا تھا: کیا وہ اس دن پیچھے ہٹنے والوں میں شامل تھے جب دو گروہ ایک دوسرے کے مدمقابل آئے تھے، تو آپ نے جواب دیا: جی ہاں۔ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے:
” انہوں نے جو کچھ کیا تھا اس میں سے کسی چیز کے عوض میں شیطان نے انہیں پھسلا دیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان سے درگزر کیا بے شک اللہ تعالیٰ مغفرت کرنے والا اور بردبار ہے۔ “
(پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس شخص سے فرمایا) اب تم جاؤ اور اپنی طرف سے پوری کوشش کر لو۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا گیا: یہ آپ نے کیا کیا؟ اب یہ شخص جائے گا اور لوگوں کو بتائے گا کہ آپ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تنقیص کرتے ہیں، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا اسے میرے پاس بلا کر لاؤ جب وہ شخص آیا، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے جس چیز کے بارے میں مجھ سے دریافت کیا تھا: تمہیں وہ بات یاد ہے۔ اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ میں نے آپ سے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا تھا: کیا وہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے، تو آپ نے جواب دیا: جی نہیں، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے موقع پر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اپنے کسی کام سے بھیجا تھا اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے لیے (غزوہ بدر کے مال غنیمت میں) حصہ مقرر کیا تھا، اس شخص نے کہا: میں نے آپ سے یہ سوال کیا تھا کہ کیا وہ بیعت رضوان میں شریک ہوئے تھے، تو آپ نے جواب دیا: جی نہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ذاتی کام کے سلسلے میں بھیجا تھا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھ کر (سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے بیعت کی تھی) تو یہ بتاؤ کہ کون سا ہاتھ زیادہ بہتر تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ یا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ؟ اس شخص نے کہا: میں نے آپ سے دریافت کیا تھا: کیا وہ اس دن پیچھے ہٹنے والوں میں شامل تھے جب دو گروہ ایک دوسرے کے مدمقابل آئے تھے، تو آپ نے جواب دیا: جی ہاں۔ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے:
” انہوں نے جو کچھ کیا تھا اس میں سے کسی چیز کے عوض میں شیطان نے انہیں پھسلا دیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان سے درگزر کیا بے شک اللہ تعالیٰ مغفرت کرنے والا اور بردبار ہے۔ “
(پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس شخص سے فرمایا) اب تم جاؤ اور اپنی طرف سے پوری کوشش کر لو۔