حدیث نمبر: 6906
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتِ : اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ فِي مِرْطٍ وَاحِدٍ ، فَأَذِنَ لَهُ ، فَقَضَى إِِلَيْهِ حَاجَتَهُ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ فِي الْمِرْطِ ، ثُمَّ خَرَجَ ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَأَذِنَ لَهُ فَقَضَى إِِلَيْهِ حَاجَتَهُ ، وَأَنَا عَلَى تِلْكَ الْحَالِ فِي الْمِرْطِ ، ثُمَّ خَرَجَ ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَأَصْلَحَ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ ، وَجَلَسَ ، فَقَضَى إِِلَيْهِ حَاجَتَهُ ، ثُمَّ خَرَجَ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اسْتَأْذَنَ عَلَيْكَ أَبُو بَكْرٍ فَقَضَى إِِلَيْكَ حَاجَتَهُ وَأَنْتَ عَلَى حَالِكَ تِلْكَ ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَيْكَ عُمَرُ فَقَضَى إِِلَيْكَ حَاجَتَهُ وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ الْحَالِ ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَيْكَ عُثْمَانُ ، فَأَصْلَحْتَ ثِيَابَكَ وَاحْتَفَظْتَ ، فَقَالَ : يَا عَائِشَةُ ، " إِِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ ، وَلَوْ أَذِنْتُ لَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ ، خَشِيتُ أَنْ لا يَقْضِيَ إِِلَيَّ حَاجَتَهُ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی میں اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہی چادر میں تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دیدی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ضرورت کو پورا کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں چادر کے اندر ہی رہے پھر وہ تشریف لے گئے پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ضرورت کو پورا کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں چادر میں تشریف فرما رہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ چلے گئے پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے ٹھیک کئے اور سیدھے ہو کر بیٹھ گئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ضرورت پوری کی پھر وہ تشریف لے گئے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ضرورت کو پورا کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں رہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ضرورت کو پورا کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں رہے، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے ٹھیک کئے اور سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! عثمان ایک شرم والا شخص ہے، اگر میں اسے اسی حالت میں اجازت دے دیتا تو مجھے اندیشہ تھا کہ وہ اپنی حاجت میرے سامنے بیان نہ کرتا۔