کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - ذکر بیان کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ محبوب تھے
حدیث نمبر: 6900
أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ بِوَاسِطَ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السَّلاسِلِ ، قَالَ : فَأَتَيْتُهُ ، فَقُلْتُ : " أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِِلَيْكَ ؟ قَالَ : عَائِشَةُ ، قُلْتُ : مِنَ الرِّجَالِ ؟ قَالَ : أَبُوهَا ، قُلْتُ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : ثُمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ " .
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جنگ ” ذات سلاسل “ کے لیے بھیجا سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے دریافت کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب کون ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ۔ میں نے دریافت کیا: مردوں میں سے کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا والد۔ میں نے دریافت کیا: پھر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر عمر بن خطاب۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 6900
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (6846). تنبيه!! رقم (6846) = (6885) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6861»