کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - ذکر خبر جو اس بات کی دلیل ہے کہ ابو بکر کے بعد خلیفہ عمر رضی اللہ عنہما تھے
حدیث نمبر: 6898
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ ابْنَ الْمُسَيِّبِ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ ، رَأَيْتُنِي عَلَى قَلِيبٍ عَلَيْهَا دَلْوٌ ، فَنَزَعْتُ مِنْهَا مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ أَخَذَهَا مِنِّي ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ ، فَنَزَعَ مِنْهَا ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ ، وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ضَعْفَهُ ، ثُمَّ اسْتَحَالَ الدَّلْوُ غَرْبًا ، ثُمَّ أَخَذَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَنْزِعُ نَزْعَ ابْنِ الْخَطَّابِ حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحْيٌ ، فَأَرَى اللَّهُ جَلَّ وَعَلا صَفِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنَامِهِ كَأَنَّهُ عَلَى قَلِيبٍ ، وَالْقَلِيبُ فِي انْتِفَاعِ الْمُسْلِمِينَ بِهِ كَأَمْرِ الْمُسْلِمِينَ ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَنَزَعْتُ مِنْهَا مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ أَخَذَ مِنِّي ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ فَنَزَعَ مِنْهَا ذَنُوبًا ، أَوْ ذَنُوبَيْنِ " ، يُرِيدُ أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ ، فَالذَّنُوبَانِ كَانَا خِلافَةَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَنَتَيْنِ وَأَيَّامًا ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثُمَّ أَخَذَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ " ، فَصَحَّ بِمَا ذَكَرْتُ اسْتِخْلافُ عُمَرَ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، بِدَلِيلِ السُّنَّةِ الْمُصَرِّحَةِ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” ایک مرتبہ میں سویا ہوا تھا میں نے خود کو ایک کنویں کے پاس دیکھا جس پر ڈول موجود تھا میں نے اس میں سے جتنا اللہ کو منظور تھا پانی نکال لیا پھر وہ ڈول مجھ سے ابن ابوقحافہ (یعنی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ) نے لے لیا انہوں نے اس میں سے ایک یا دو ڈول نکال لئے ان کے نکالنے میں کچھ کمزوری تھی اللہ تعالیٰ ان کی کمزوری کی مغفرت کر دے پھر وہ ڈول بڑے ڈول میں تبدیل ہو گیا پھر عمر بن خطاب نے اسے لیا تو میں نے لوگوں میں ایسا محنتی کوئی شخص نہیں دیکھا عمر بن خطاب نے اس میں سے اتنا پانی نکالا کہ لوگ اچھی طرح سیراب ہو گئے۔ “
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب وحی ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو خواب میں یہ بات دکھائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کنویں پر موجود ہیں اور مسلمانوں کے نفع کے حوالے سے کنواں حکومت کی طرح ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے اس میں سے جتنا اللہ کو منظور تھا اتنا پانی نکالا پھر وہ مجھ سے ابن ابوقحافہ نے لے لیا انہوں نے اس میں سے کچھ ڈول (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) دو ڈول نکالے اس کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مسلمانوں کی حکومت ہے، تو دو ڈولوں کی صورت یوں ہو گی کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت بھی دو سال اور کچھ دن پر مشتمل تھی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پھر اسے عمر بن خطاب نے لے لیا تو اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ میں نے جو بات ذکر کی ہے وہ درست ہے کیونکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہی خلیفہ بنے تھے، تو یہ اس سنت میں صریح دلیل ہے اس بات کی جو ہم نے ذکر کی ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 6898
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م (3664)، م (7/ 113). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6859»