کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق بعض آیات نازل کیں
حدیث نمبر: 6896
أَخْبَرَنَا بَدَلُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ بَحْرٍ الْخِضْرَانِيُّ الْحَافِظُ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : " وَافَقْتُ رَبِّي فِي ثَلاثٍ أَوْ وَافَقَنِي رَبِّي فِي ثَلاثٍ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوِ اتَّخَذْتَ مِنْ مَقَامِ إِِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125 ، وَقُلْتُ : يَدْخُلُ عَلَيْكَ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ ، فَلَوْ حَجَبْتَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ ، فَأُنْزِلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ ، وَبَلَغَنِي شَيْءٌ مِنْ مُعَامَلَةِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ ، فَقُلْتُ : لَتَكُفُّنَّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ لَيُبْدِلَنَّهُ اللَّهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ ، حَتَّى انْتَهَيْتُ إِِلَى إِِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ ، فَقَالَتْ : يَا عُمَرُ ، أَمَا فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَعِظُ نِسَاءَهُ حَتَّى تَعِظَهُنَّ أَنْتَ ، فَكَفَفْتُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهَ عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ سورة التحريم آية 5 " .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تین چیزوں کے بارے میں میری رائے میرے پروردگار (کے حکم کے) موافق تھی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) میرے پروردگار (کا حکم) میری رائے کے موافق تھا میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کو جائے نماز بنا لیں تو یہ مناسب ہو گا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ” تم لوگ مقام ابراہیم کو جائے نماز بنا لو۔ “ میں نے عرض کی: نیک اور گنہگار (ہر طرح کے لوگ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں، تو اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم امہات المؤمنین کو پردے کے لیے کہیں (تو یہ مناسب ہو گا) تو حجاب کے حکم سے متعلق آیت نازل ہو گئی۔ پھر ایک مرتبہ امہات المؤمنین کے کسی معاملے کے بارے میں کوئی بات مجھ تک پہنچی تو میں نے عرض کی: یا تو آپ خواتین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (کو پریشانی کا شکار کرنے) سے رک جائیں گی یا پھر اللہ تعالیٰ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی ازواج عطا کر دے گا، جو آپ سے زیادہ بہتر ہوں گی یہاں تک کہ میں امہات المؤمنین میں سے ایک ام المؤمنین کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا: اے عمر! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنی ازواج کو کبھی وعظ نہیں کیا اور تم انہیں وعظ کرتے پھر رہے ہو، تو میں اس چیز سے رک گیا لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ” اگر وہ (نبی) تمہیں طلاق دیدے تو ان کا تو اس کا پروردگار اسے بدلے میں ایسی بیویاں عطا کر دے گا جو تم سے زیادہ بہتر ہوں گی۔ “