کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - ذکر وجہ کہ جس کی بنا پر صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کہا جو ہم نے بیان کیا
حدیث نمبر: 6893
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أبيه ، أَنَّهُ قَالَ : دَخَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ نِسْوَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ يَسَلْنَهُ وَيَسْتَكْثِرْنَهُ رَافِعَاتٍ أَصْوَاتَهُنَّ ، فَلَمَّا سَمِعْنَ صَوْتَ عُمَرَ انْقَمَعْنَ وَسَكَتْنَ ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا عُدَيَّاتِ أَنْفُسِهِنَّ ، تَهَبْنَنِي وَلا تَهَبْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عُمَرُ ، مَا لَقِيَكَ الشَّيْطَانُ سَالِكًا فَجًّا ، إِِلا سَلَكَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّكَ " .
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قریش کی کچھ خواتین موجود تھیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگ رہی تھیں اور زیادہ کا مطالبہ کر رہی تھیں ان کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں جب ان خواتین نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی آواز سنی تو ڈھیلی پڑ گئیں اور خاموش ہو گئیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دئیے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے اپنی جان کی دشمنو! تم مجھ سے ڈرتی ہو اور اللہ کے رسول سے نہیں ڈرتی ہو، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! اگر شیطان کسی راستے پر چلتے ہوئے تمہارے سامنے آ جائے تو وہ اس راستے کو چھوڑ کر دوسرے راستے پر چلا جائے گا۔