کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہونے کے وقت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے راضی تھے
حدیث نمبر: 6891
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُمَرَ حِينَ طُعِنَ ، فَقَالَ : " أَبْشِرْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، أَسْلَمْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ كَفَرَ النَّاسُ ، وَقَاتَلْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَذَلَهُ النَّاسُ ، وَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ ، وَلَمْ يَخْتَلِفْ فِي خِلافَتِكَ رَجُلانِ ، وَقُتِلْتَ شَهِيدًا " ، فَقَالَ : أَعِدْ ، فَأَعَادَ ، فَقَالَ : " الْمَغْرُورُ مَنْ غَرَرْتُمُوهُ ، لَوْ أَنَّ مَا عَلَى ظَهْرِهَا مِنْ بَيْضَاءَ وَصَفْرَاءَ ، لافْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ هَوْلِ الْمَطْلَعِ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا گیا تو وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے کہا: اے امیر المؤمنین آپ کے لیے خوشخبری ہے کہ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اس وقت اسلام قبول کیا جب لوگوں نے کفر اختیار کیا تھا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اس وقت جنگ میں حصہ لیا جب لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو رسواء کرنے کی کوشش کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جب وصال ہوا اس وقت وہ آپ سے راضی تھے اور آپ کی خلافت کے بارے میں دو آدمیوں کے درمیان بھی کوئی اختلاف نہیں تھا اور اب آپ شہید ہو کر مرنے لگے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اپنی بات دہراؤ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنی بات دہرائی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ شخص غلط فہمی کا شکار ہوتا ہے جسے تم لوگ غلط فہمی کا شکار کرو، زمین پر سفید اور زرد (یعنی سونا اور چاندی) جو کچھ بھی موجود ہے قیامت (یا آخرت) کی ہولناکی سے بچنے کے لیے اگر وہ بھی فدیہ دینا پڑے تو میں وہ فدیے کے طور پر دیدوں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 6891
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره دون قوله: «المغرور من غررتموه». * [غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ] قال الشيخ: لم يوثّقه غير المؤلِّف (9/ 1) - انظر «تيسير الانتفاع» -، وضعَّفه الدارقطنيّ، وقال الذهبي: «ليس بِحُجَّةٍ في الحديث». ومن فوقَهُ ثقاتٌ من رجال مسلم. وقد رواه ابن سعد في «الطبقات» (3/ 355) بسندٍ آخر صحيح - عن الشعبيّ -، قال ... فذكرَهُ - مُرسلاً -؛ لم يذكر ابن عبَّاسٍ. وَقَد تَجَلَّى لي ضَعفُه بزياداتٍ تَفَرَّد بِها دون الثقات في بعض الأحاديث؛ خرَّجتها تحت الحديث (6058 - «الضعيفة»). ويَلحَقُ بها هذا الحديث؛ فَإِنَّهُ تَفَرَّد بقولِه: «المغرورُ من غَرَرْتُمُوهُ»؛ فقد رواه عبد الوهاب بن عطاء: ثنا داود بن أبي هند ... دون هذه الزيادة. أخرجه الحاكم (3/ 92)، وإسناده جيد. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6852»