کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - ذکر خبر جو حدیث کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ جابر کی ہمارے ذکر کردہ خبر کے خلاف ہے
حدیث نمبر: 6888
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَن رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ ، رَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ ، فَإِِذَا امْرَأَةٌ تَوَضَّأُ إِِلَى جَانِبِ قَصْرٍ ، فَقُلْتُ : لِمَنْ هَذَا ؟ فَقَالَتْ : لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَذَكَرْتُ غَيْرَةَ عُمَرَ ، فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا " ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَبَكَى عُمَرُ وَنَحْنُ جَمِيعًا فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ ، ثُمَّ قَالَ : بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعَلَيْكَ أَغَارُ ؟ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ فِي هَذَا الْخَبَرِ : بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ ، وَفِي خَبَرِ جَابِرٍ : أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ : أُدْخِلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَنَّةَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ ، فَرَأَى قَصْرَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَسَأَلَ عَنِ الْقَصْرِ ، فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُ لِعُمَرَ ، وَبَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَائِمٌ مَرَّةً أُخْرَى ، إِِذْ رَأَى كَأَنَّهُ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ وَإِِذَا امْرَأَةٌ إِِلَى جَانِبِ قَصْرٍ تَتَوَضَّأُ ، فَسَأَلَ عَنِ الْقَصْرِ ، فَقَالَتْ : لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، لَفْظُ خَبَرِ أَبِي هُرَيْرَةَ بِخِلافِ لَفْظِ خَبَرِ جَابِرٍ ، فَدَلَّكَ ذَلِكَ عَلَى أَنَّهُمَا خَبَرَانِ فِي وَقْتَيْنِ مُتَابَيِنَيْنِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ تَضَادٌّ وَلا تَهَاتُرٌ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” میں ایک مرتبہ سویا ہوا تھا میں نے خود کو جنت میں دیکھا وہاں ایک عورت ایک محل کے کنارے پر وضو کر رہی تھی۔ میں نے دریافت کیا: یہ محل کس کا ہے؟ اس عورت نے بتایا: عمر بن خطاب کا ہے، تو مجھے عمر کے مزاج کی تیزی کا خیال آ گیا تو میں وہاں سے مڑ کر واپس آ گیا۔ “ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور ہم سب لوگ جو اس محفل میں موجود تھے رونے لگے پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر غصہ کروں گا۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں یہ بات مذکور ہے ” اس دوران کہ میں سویا ہوا تھا “ جبکہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ الفاظ ہیں ” مجھے جنت میں داخل کیا گیا “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت میں اس وقت داخل کیا گیا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کروائی گئی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا محل دیکھا تھا اور اس محل کے بارے میں دریافت کیا: تو فرشتوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تھا یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ہے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے ہوئے تھے تو یہ دوسری مرتبہ کا واقعہ ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں یہ دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت میں داخل کیا گیا تو وہاں ایک محل کے پہلو میں ایک عورت موجود تھی جو وضو کر رہی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس محل کے بارے میں دریافت کیا: تو اس عورت نے بتایا: یہ عمر بن خطاب کا ہے۔ روایت کے یہ الفاظ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے نقل کردہ ہیں اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت سے مختلف ہیں، تو یہ چیز آپ کی رہنمائی اس بات کی طرف کرے گی کہ یہ دو روایات ہیں جو دو مختلف اوقات کے بارے میں ہیں اس طرح ان دونوں کے درمیان کوئی تضاد اور اختلاف باقی نہیں رہے گا۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں یہ بات مذکور ہے ” اس دوران کہ میں سویا ہوا تھا “ جبکہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ الفاظ ہیں ” مجھے جنت میں داخل کیا گیا “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت میں اس وقت داخل کیا گیا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کروائی گئی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا محل دیکھا تھا اور اس محل کے بارے میں دریافت کیا: تو فرشتوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تھا یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ہے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے ہوئے تھے تو یہ دوسری مرتبہ کا واقعہ ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں یہ دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت میں داخل کیا گیا تو وہاں ایک محل کے پہلو میں ایک عورت موجود تھی جو وضو کر رہی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس محل کے بارے میں دریافت کیا: تو اس عورت نے بتایا: یہ عمر بن خطاب کا ہے۔ روایت کے یہ الفاظ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے نقل کردہ ہیں اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت سے مختلف ہیں، تو یہ چیز آپ کی رہنمائی اس بات کی طرف کرے گی کہ یہ دو روایات ہیں جو دو مختلف اوقات کے بارے میں ہیں اس طرح ان دونوں کے درمیان کوئی تضاد اور اختلاف باقی نہیں رہے گا۔