کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قصر دیکھا
حدیث نمبر: 6886
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ فِيهَا قَصْرًا مِنْ ذَهَبٍ أَوْ لُؤْلُؤٍ ، فَقُلْتُ : لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ ؟ قَالُوا : لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَمَا مَنَعَنِي أَنْ أَدْخُلَهُ إِِلا عِلْمِي بِغَيْرَتِكَ " ، قَالَ : عَلَيْكَ أَغَارُ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، عَلَيْكَ أَغَارُ .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” میں جنت میں داخل ہوا میں نے اس میں سونے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) موتیوں سے بنا ہوا ایک محل دیکھا، میں نے دریافت کیا: یہ کس کا محل ہے۔ لوگوں نے بتایا: یہ عمر بن خطاب کا ہے، تو میں اس میں صرف اس وجہ سے داخل نہیں ہوا کیونکہ مجھے تمہارے مزاج کی تیزی کا پتہ ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مزاج کی تیزی دکھاؤں گا، کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مزاج کی تیزی دکھاؤں گا؟ “