حدیث نمبر: 6879
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِِسْحَاقَ ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، لَمْ تَعْلَمْ قُرَيْشٌ بِإِِسْلامِهِ ، فَقَالَ : " أَيْ أَهْلُ مَكَّةَ ، أَنْشَأُ لِلْحَدِيثِ ؟ فَقَالُوا : جَمِيلُ بْنُ مَعْمَرٍ الْجُمَحِيُّ ، فَخَرَجَ إِِلَيْهِ وَأَنَا مَعَهُ أَتْبَعُ أَثَرَهُ ، أَعْقِلُ مَا أَرَى ، وَأَسْمَعُ فَأَتَاهُ ، فَقَالَ : يَا جَمِيلُ ، إِِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ ، قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا رَدَّ عَلَيْهِ كَلِمَةً حَتَّى قَامَ عَامِدًا إِِلَى الْمَسْجِدِ ، فَنَادَى أَنْدِيَةَ قُرَيْشٍ ، فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، إِِنَّ ابْنَ الْخَطَّابِ قَدْ صَبَأَ ، فَقَالَ عُمَرُ : كَذَبَ ، وَلَكِنِّي أَسْلَمْتُ وَآمَنْتُ بِاللَّهِ وَصَدَّقْتُ رَسُولَهُ ، فَثَاوَرُوهُ ، فَقَاتَلَهُمْ حَتَّى رَكَدَتِ الشَّمْسُ عَلَى رُءُوسِهِمْ ، حَتَّى فَتَرَ عُمَرُ وَجَلَسَ فَقَامُوا عَلَى رَأْسِهِ ، فَقَالَ عُمَرُ : افْعَلُوا مَا بَدَا لَكُمْ ، فَوَاللَّهِ لَوْ كُنَّا ثَلاثَمِائَةِ رَجُلٍ لَقَدْ تَرَكْتُمُوهَا لَنَا أَوْ تَرَكْنَاهَا لَكُمْ ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ قِيَامٌ عَلَيْهِ ، إِِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَيْهِ حُلَّةُ حَرِيرٍ وَقَمِيصٌ قَوْمَسِيٌّ ، فَقَالَ : مَا بَالَكُمْ ؟ فَقَالُوا : إِِنَّ ابْنَ الْخَطَّابِ قَدْ صَبَأَ ، قَالَ : فَمَهْ ، امْرُؤٌ اخْتَارَ دِينًا لِنَفْسِهِ ، أَفَتَظُنُّونَ أَنَّ بَنِي عَدِيٍّ تُسْلِمُ إِِلَيْكُمْ صَاحِبَهُمْ ؟ قَالَ : فَكَأَنَّمَا كَانُوا ثَوْبًا انْكَشَفَ عَنْهُ ، فَقُلْتُ لَهُ بَعْدُ بِالْمَدِينَةِ : يَا أَبَتِ ، مَنِ الرَّجُلُ الَّذِي رَدَّ عَنْكَ الْقَوْمَ يَوْمَئِذٍ ؟ فَقَالَ : يَا بُنَيَّ ، ذَاكَ الْعَاصُ بْنُ وَائِلٍ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا، تو قریش کو ان کے اسلام قبول کرنے کا پتہ نہیں چلا انہوں نے فرمایا: اے اہل مکہ! تم میں سے کون شخص سب سے اچھی گفتگو کر سکتا ہے (یعنی سب سے زیادہ سمجھ دار ہے) لوگوں نے بتایا: جمیل بن معمر جمحی۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس کے پاس تشریف لے گئے میں بھی ان کے ساتھ تھا میں ان کے پیچھے چل رہا تھا جو کچھ مجھے نظر آ رہا تھا وہ بات مجھے سمجھ آ رہی تھی اور میں اسے سن رہا تھا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس شخص کے پاس آئے اور بولے: اے جمیل میں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اللہ کی قسم! اس نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو کوئی جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ وہ اس کے ساتھ مسجد حرام کی طرف آئے اور قریش کی بیٹھکوں کے درمیان اس نے یہ اعلان کیا اے قریش کے گروہ خطاب کا بیٹا بے دین ہو گیا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس نے جھوٹ کہا: ہے بلکہ میں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آیا ہوں اور میں نے اس کے رسول کی تصدیق کر دی ہے، تو ان لوگوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر حملہ کر دیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ لڑنے لگے، یہاں تک کہ ان کے سروں پر سورج غروب ہو گیا (یعنی کافی دیر تک لڑائی ہوتی رہی) یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ الگ ہو کر بیٹھ گئے وہ لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سرہانے کھڑے تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہیں جو مناسب لگتا ہے تم کر لو، اللہ کی قسم! اگر ہم تین سو لوگ ہو گئے تو یا تو تم اسے ہمارے لیے چھوڑ دو گے یا پھر ہم اسے تمہارے لیے چھوڑ دیں گے، ابھی وہ لوگ اسی حالت میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑے ہوئے تھے ایک شخص آیا جس نے ریشمی حلہ پہنا ہوا تھا اور قومسی قمیض پہنی ہوئی تھی، اس نے دریافت کیا: تم لوگوں کا کیا معاملہ ہے ان لوگوں نے بتایا: خطاب کا بیٹا بے دین ہو گیا ہے اس نے کہا: اسے چھوڑ دو کیونکہ ایک شخص نے اپنی ذات کے لیے دین کو اختیار کیا ہے کیا تم لوگ یہ گمان کرتے ہو کہ بنو عدی اپنے ساتھی (یعنی اپنے ایک فرد) کو تمہارے سپرد کر دیں گے۔ راوی کہتے ہیں: تو یوں تھا جیسے ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا تھا، جو ہٹ گیا۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: بعد میں مدینہ منورہ میں، میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: ابا جان وہ شخص کون تھا؟ جس نے اس دن دوسرے لوگوں کو آپ سے پرے کیا تھا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے میرے بیٹے وہ عاص بن وائل تھا۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: بعد میں مدینہ منورہ میں، میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: ابا جان وہ شخص کون تھا؟ جس نے اس دن دوسرے لوگوں کو آپ سے پرے کیا تھا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے میرے بیٹے وہ عاص بن وائل تھا۔