کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - ذکر عمر بن خطاب عدوی رضی اللہ عنہ اور اس پر اللہ کی رحمت، اور یہ ہوا
حدیث نمبر: 6878
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أبيه ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ ، إِِذْ رَأَيْتُ قَدَحًا أَتَيْتُ بِهِ فِيهِ لَبَنٌ فَشَرِبْتُ مِنْهُ ، حَتَّى إِِنِّي لأَرَى الرِّيَّ يَجْرِي فِي أَظْفَارِي ، ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالُوا : فَمَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : الْعِلْمَ " .
حمزہ بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” ایک مرتبہ میں سویا ہوا تھا میں نے خواب میں یہ دیکھا کہ ایک پیالہ میرے پاس لایا گیا جس میں دودھ موجود ہے میں نے اس میں سے پی لیا، یہاں تک کہ میں نے اس کی سیرابی اپنے ناخنوں کے اندر چلتی ہوئی محسوس کی پھر میں نے بچا ہوا دودھ عمر بن خطاب کو دیدیا۔ لوگوں نے دریافت کیا: آپ نے اس کی کیا تعبیر کی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علم۔ “