کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت میں ابو بکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ "نہ غم کرو، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے"
حدیث نمبر: 6870
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْغُدَانِيُّ ، أَخْبَرَنَا إِِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ : اشْتَرَى أَبُو بَكْرٍ مِنْ عَازِبٍ رَحْلا بِثَلاثَةَ عَشَرَ دِرْهَمًا ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِعَازِبٍ : مُرِ الْبَرَاءَ فَلْيَحْمِلْهُ إِِلَى أَهْلِي ، فَقَالَ لَهُ عَازِبٌ لا ، حَتَّى تُحَدِّثْنِي كَيْفَ صَنَعْتَ أَنْتَ وَرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجْتُمَا مِنْ مَكَّةَ وَالْمُشْرِكُونَ يَطْلُبُونَكُمْ ، فَقَالَ : " ارْتَحَلْنَا مِنْ مَكَّةَ ، فَأَحْيَيْنَا لَيْلَتَنَا حَتَّى أَظْهَرَنَا ، وَقَامَ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ رَمَيْتُ بِبَصَرِي هَلْ نَرَى ظِلا نَأْوِي إِِلَيْهِ ، فَإِِذَا أَنَا بِصَخْرَةٍ فَانْتَهَيْتُ إِِلَيْهَا ، فَإِِذَا بَقِيَّةُ ظِلِّهَا ، فَسَوَّيْتُهُ ، ثُمَّ فَرَشْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قُلْتُ : اضْطَجِعْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَاضْطَجَعَ ، ثُمَّ ذَهَبْتُ أَنْظُرُ هَلْ أَرَى مِنَ الطَّلَبِ أَحَدًا ، فَإِِذَا أَنَا بِرَاعِي غَنَمٍ يَسُوقُ غَنَمَهُ إِِلَى الصَّخْرَةِ ، يُرِيدُ مِنْهَا مِثْلَ الَّذِي أُرِيدُ يَعْنِي الظِّلَّ ، فَسَأَلْتُهُ ، فَقُلْتُ : لِمَنْ أَنْتَ يَا غُلامُ ؟ قَالَ الْغُلامُ : لِفُلانٍ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَعَرَفْتُهُ ، فَقُلْتُ : هَلْ فِي غَنَمِكَ مِنْ لَبَنٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَقُلْتُ : هَلْ أَنْتَ حَالِبٌ لِي ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَأَمَرْتُهُ ، فَاعْتَقَلَ شَاةً مِنْ غَنَمِهِ ، وَأَمَرْتُهُ أَنْ يَنْفُضَ عَنْهَا مِنَ الْغُبَارِ ، ثُمَّ أَمَرْتُهُ أَنْ يَنْفُضَ كَفَّيْهِ ، فَقَالَ هَكَذَا ، فَضَرَبَ إِِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الأُخْرَى ، فَحَلَبَ فِي كُثْبَةٍ مِنْ لَبَنٍ ، وَقَدْ رَوَيْتُ مَعِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِدَاوَةً عَلَى فَمِهَا خِرْقَةٌ ، فَصَبَبْتُ عَلَى اللَّبَنِ حَتَّى بَرَدَ أَسْفَلُهُ ، فَانْتَهَيْتُ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَافَقْتُهُ قَدِ اسْتَيْقَظَ ، فَقُلْتُ : اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَشَرِبَ ، فَقُلْتُ : قَدْ آنَ الرَّحِيلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَارْتَحَلْنَا وَالْقَوْمُ يَطْلُبُونَنَا ، فَلَمْ يُدْرِكْنَا أَحَدٌ مِنْهُمْ غَيْرُ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ عَلَى فَرَسٍ لَهُ ، فَقُلْتُ : هَذَا الطَّلَبُ قَدْ لَحِقَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَبَكَيْتُ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَحْزَنْ إِِنَّ اللَّهَ مَعَنَا ، فَلَمَّا دَنَا مِنَّا ، وَكَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ قَيْدُ رُمْحَيْنِ أَوْ ثَلاثَةٍ ، قُلْتُ : هَذَا الطَّلَبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ لَحِقَنَا ، فَبَكَيْتُ لَهُ ، قَالَ : مَا يُبْكِيكَ ؟ قُلْتُ : أَمَا وَاللَّهِ مَا عَلَى نَفْسِي أَبْكِي ، وَلَكِنْ أَبْكِي عَلَيْكَ ، فَدَعَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : اللَّهُمَّ اكْفِنَاهُ بِمَا شِئْتَ ، قَالَ : فَسَاخَتْ بِهِ فَرَسُهُ فِي الأَرْضِ إِِلَى بَطْنِهَا ، فَوَثَبَ عَنْهَا ، ثُمَّ قَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ هَذَا عَمَلُكَ ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يُنَجِّيَنِي مِمَّا أَنَا فِيهِ ، فَوَاللَّهِ لأُعَمِّيَنَّ عَلَى مَنْ وَرَائِي مِنَ الطَّلَبِ ، وَهَذِهِ كِنَانَتِي فَخُذْ مِنْهَا سَهْمًا ، فَإِِنَّكَ سَتَمُرُّ عَلَى إِِبِلِي وَغَنَمِي فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا ، فَخُذْ مِنْهَا حَاجَتَكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا حَاجَةَ لَنَا فِي إِِبِلِكَ ، وَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْطَلَقَ رَاجِعًا إِِلَى أَصْحَابِهِ ، وَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَيْنَا الْمَدِينَةَ لَيْلا ، فَتَنَازَعَهُ الْقَوْمُ أَيُّهُمْ يَنْزِلُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِنِّي أَنْزَلُ اللَّيْلَةَ عَلَى بَنِي النَّجَّارِ أَخْوَالِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أُكْرِمُهُمْ بِذَلِكَ ، فَخَرَجَ النَّاسُ حِينَ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فِي الطُّرُقِ وَعَلَى الْبُيُوتِ مِنَ الْغِلْمَانِ وَالْخَدَمِ ، يَقُولُونَ : جَاءَ مُحَمَّدٌ ، جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ انْطَلَقَ ، فَنَزَلَ حَيْثُ أُمِرَ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّى نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ أَنْ يُوَجَّهَ نَحْوَ الْكَعْبَةِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ سورة البقرة آية 144 ، قَالَ : فَقَالَ : السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ وَهُمُ الْيَهُودُ : مَا وَلاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا سورة البقرة آية 142 ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : قُلْ لِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ سورة البقرة آية 142 ، قَالَ : وَصَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَخَرَجَ بَعْدَمَا صَلَّى ، فَمَرَّ عَلَى قَوْمٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَهُمْ رُكُوعٌ فِي صَلاةِ الْعَصْرِ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، فَقَالَ : هُوَ يَشْهَدُ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَّهُ قَدْ وَجَّهَ نَحْوَ الْكَعْبَةِ ، فَانْحَرَفَ الْقَوْمُ حَتَّى تَوَجَّهُوا إِِلَى الْكَعْبَةِ ، قَالَ الْبَرَاءُ : وَكَانَ أَوَّلُ مَنْ قَدِمَ عَلَيْنَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مُصْعَبَ بْنَ عُمَيْرٍ أَخُو بَنِي عَبْدِ الدَّارِ بْنِ قُصَيٍّ ، فَقُلْنَا لَهُ : مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : هُوَ مَكَانَهُ وَأَصْحَابُهُ عَلَى أَثَرِي ، ثُمَّ أَتَانَا بَعْدَهُ عَمْرُو بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ الأَعْمَى أَخُو بَنِي فِهْرٍ ، فَقُلْنَا : مَا فَعَلَ مِنْ وَرَائِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ ؟ قَالَ : هُمُ الآنَ عَلَى أَثَرِي ، ثُمَّ أَتَانَا بَعْدُ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَبِلالٌ ، ثُمَّ أَتَانَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي عِشْرِينَ رَاكِبًا ، ثُمَّ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهُمْ وَأَبُو بَكْرٍ مَعَهُ ، قَالَ الْبَرَاءُ : فَلَمْ يَقْدَمْ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَرَأْتُ سُورًا مِنَ الْمُفَصَّلِ ، ثُمَّ خَرَجْنَا نَلْقَى الْعِيرَ فَوَجَدْنَاهُمْ قَدْ حَذِرُوا " .
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (میرے والد) سیدنا عازب رضی اللہ عنہ سے ایک پالان تیرہ درہم کے عوض میں خریدا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عازب رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ (اپنے بیٹے) براء سے کہیے کہ وہ اسے اٹھا کر میرے گھر تک پہنچا دے تو سیدنا عازب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ایسا اس وقت تک نہیں ہو گا، جب تک آپ ہمیں یہ نہیں بتائیں گے کہ جب آپ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکلے اور مشرکین آپ کی تلاش میں تھے اس وقت آپ نے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتایا: ہم لوگ مکہ سے روانہ ہوئے ہم لوگ رات بھر سفر کرتے رہے یہاں تک کہ صبح ہو گئی اور دن چڑھ گیا، ہیں نے اپنی نگاہ دوڑائی کہ کیا مجھے کوئی ایسی جگہ نظر آتی ہے جو سایہ دار ہو اور ہم وہاں جا سکیں، تو وہاں ایک چٹان موجود تھی میں اس کی طرف آ گیا وہاں تھوڑا سا سایہ باقی تھا میں نے اس جگہ کو صاف کیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بستر بچھا دیا۔ پھر میں نے عرض کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ جائیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے میں نے نظر دوڑائی کہ تلاش کرنے والوں میں سے کوئی نظر آتا ہے تو وہاں بکریوں کا ایک چرواہا نظر آیا جو اپنی بکریوں کو چٹان کی طرف لے کے آ رہا تھا وہ بھی چٹان سے وہی کچھ حاصل کرنا چاہتا تھا، جو میں حاصل کرنا چاہتا تھا یعنی سایہ، میں نے اس سے دریافت کیا: میں نے کہا: اے لڑکے! تم کس کے غلام ہو؟ اس لڑکے نے کہا: فلاں شخص کا۔ اس نے قریش سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا نام لیا جس سے میں واقف تھا میں نے دریافت کیا: کیا تمہاری بکریوں میں دودھ ہے۔ اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ میں نے دریافت کیا: کیا تم ہمارے لیے اسے دوہ کے دیدو گے اس نے کہا: جی ہاں۔ میں نے اسے ہدایت کی اس نے اپنی بکریوں میں سے ایک بکری الگ کی میں نے اسے ہدایت کی کہ وہ اس سے غبار کو صاف کرے پھر میں نے اسے ہدایت کی کہ وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو بھی جھاڑ لے، تو اس نے اس طرح کیا یعنی ایک ہاتھ دوسرے پر مارا پھر اس نے برتن میں دودھ دوہ دیا میں نے اپنے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک برتن رکھا تھا، جس کے منہ پر کپڑا تھا میں نے اس دودھ پر پانی انڈیلا یہاں تک کہ اس کا نیچے والا حصہ ٹھنڈا ہو گیا (یعنی وہ پانی اچھی طرح اس دودھ میں حل ہو گیا) پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو چکے تھے میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اسے پی لیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اب روانگی کا وقت ہے تو ہم لوگ روانہ ہو گئے لوگ ہمیں تلاش کر رہے تھے ان میں سے کوئی بھی ہم تک نہیں پہنچ سکا صرف سراقہ بن مالک اپنے گھوڑے پر (ہم تک پہنچ گیا) میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! تلاش کرنے والا شخص ہم تک پہنچ گیا ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رو پڑا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نہ ڈرو۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے، جب وہ ہمارے قریب ہوا اور ہمارے اور اس کے درمیان دو یا تین نیزوں جتنا فاصلہ رہ گیا تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ تلاش کرنے والا شخص ہم تک پہنچ گیا ہے، تو میں اس بات پر رو پڑا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم کیوں رو رہے ہو؟ میں نے عرض کی: اللہ کی قسم! میں اپنی ذات کے حوالے سے نہیں رو رہا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے رو رہا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے لیے دعائے ضرر کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو اس کے مقابلے میں ہمارے لیے جیسے چاہے کافی ہو جا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، تو اس شخص کا گھوڑا پیٹ تک زمین کے اندر دھنس گیا وہ اس سے نیچے گر گیا پھر اس نے کہا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پتہ ہے کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی وجہ سے ہوا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے میں جس صورت حال کا شکار ہوں وہ اس سے مجھے نجات عطا کر دے اللہ کی قسم! میں اپنے پیچھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں آنے والوں کو گمراہ کر دوں گا یہ میرا ترکش ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے ایک تیر لے لیجئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر میرے اونوں اور بکریوں کے پاس سے فلاں مقام پر ہو گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے اپنی ضرورت کے مطابق چیزیں حاصل کر لیجئے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہمیں تمہارے اونٹوں کی ضرورت نہیں ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعا کی تو وہ شخص اپنے ساتھیوں کی طرف واپس چلا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کرتے رہے، یہاں تک کہ ہم رات کے وقت مدینہ منورہ پہنچے تو لوگوں کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہو گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کس کے ہاں پڑاؤ کریں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آج رات میں بنو نجار کے ہاں پڑاؤ کروں گا جو جناب عبدالمطلب کے ننھیال ہیں میں اس حوالے سے ان کی عزت افزائی کروں گا، جب ہم لوگ مدینہ منورہ آئے تو لوگ راستوں میں نکل آئے گھروں کے اوپر بچے موجود تھے غلام موجود تھے وہ یہ کہہ رہے تھے: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں اللہ کے رسول تشریف لے آئے ہیں جب صبح ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی جگہ پڑاؤ کیا جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تقریباً سولہ یا سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ خواہش تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ خانہ کعبہ کی طرف کیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ” ہم آسمان کی طرف تمہارے چہرے کا بار بار اٹھنا دیکھ رہے ہیں ہم عنقریب تمہیں اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے، جس سے تم راضی ہو گے تو تم اپنے چہرے کو مسجد حرام کی سمت میں پھیر لو۔ “
راوی کہتے ہیں: تو کچھ بیوقوف لوگوں نے جو یہودی تھے انہوں نے یہ کہا:۔ ” ان لوگوں کو ان کے اس قبلے سے کس چیز نے پھیر دیا جس پر یہ پہلے تھے۔ “ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ” تم یہ فرما دو! مشرق اور مغرب اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت ہیں وہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیدیتا ہے۔ “
راوی بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز ادا کی، نماز ادا کرنے کے بعد وہ روانہ ہوا اس کا گزر کچھ انصاریوں کے پاس سے ہوا جو عصر کی نماز میں رکوع کی حالت میں تھے اور بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کر رہے تھے اس شخص نے یہ بتایا کہ وہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ خانہ کعبہ کی طرف کر دیا گیا ہے، تو وہ لوگ پلٹ گئے اور انہوں نے اپنا رخ خانہ کعبہ کی طرف کر لیا۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مہاجرین میں سے سب سے پہلے سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں آئے تھے جن کا تعلق بنو عبدالدار بن قیس سے تھا ہم نے ان سے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے۔ انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ پر ہی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب میرے پیچھے آ رہے ہیں پھر ان کے بعد سیدنا عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نابینا ہمارے پاس تشریف لے آئے جن کا تعلق بنو فہر سے ہے ہم نے ان سے دریافت کیا: آپ کے پیچھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا کیا حال ہے۔ انہوں نے بتایا: وہ میرے پیچھے پیچھے آ رہے ہیں پھر ان کے بعد سیدنا عمار بن یاسر، سیدنا سعد بن ابی وقاص، سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہم ہمارے پاس آ گئے پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی سواروں سمیت ہمارے پاس آئے پھر ان کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لے آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے تو میں اس پہلے مفصل سورتوں سے تعلق رکھنے والی بیس سورتوں کی تلاوت سیکھ چکا تھا۔ پھر ہم لوگ نکلے تاکہ (ابوسفیان کے) قافلے کو پکڑ لیں لیکن ہم نے انہیں پایا کہ وہ لوگ بچ کے جا چکے تھے (یعنی یہ غزوہ بدر کے موقع کی بات ہے)
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 6870
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «فقه السيرة» (ق 129 - الأصل): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6831»