کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - ذکر کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت مدینہ میں صحبت
حدیث نمبر: 6868
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : لَمْ أَعْقِلْ أَبَوَيَّ قَطُّ إِِلا وَهُمَا يَدِينَانِ الدِّينَ ، وَلَمْ يَمُرَّ عَلَيْنَا يَوْمٌ إِِلا يَأْتِينَا فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَفَيِ النَّهَارِ بُكْرَةً وَعَشِيًّا ، فَلَمَّا ابْتُلِيَ الْمُسْلِمُونَ ، " خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ مُهَاجِرًا قِبَلَ أَرْضِ الْحَبَشَةِ ، حَتَّى إِِذَا بَلَغَ بَرْكَ الْغِمَادِ لَقِيَهُ ابْنُ الدَّغِنَّةِ ، وَهُوَ سَيِّدُ الْقَارَةِ ، فَقَالَ : أَيْنَ تُرِيدُ يَا أَبَا بَكْرٍ ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَخْرَجَنِي قَوْمِي ، فَأُرِيدُ أَنْ أَسِيحَ فِي الأَرْضِ ، فَأَعْبُدَ رَبِّي ، فَقَالَ ابْنُ الدُّغُنَّةِ : إِِنَّ مِثْلَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ لا يَخْرُجُ وَلا يُخْرَجُ ، إِِنَّكَ تُكْسِبُ الْمَعْدُومَ ، وتَصِلُ الرَّحِمَ ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ ، وَأَنَا لَكَ جَارٌ ، فَارْجِعْ فَاعْبُدْ رَبَّكَ بِبَلَدِكَ ، فَارْتَحَلَ ابْنُ الدُّغُنَّةِ ، فَرَجَعَ مَعَ أَبِي بَكْرٍ ، فَطَافَ ابْنُ الدُّغُنَّةِ فِي كُفَّارِ قُرَيْشٍ ، وَقَالَ : إِِنَّ أَبَا بَكْرٍ لا يُخْرَجُ مِثْلُهُ ، وَتُخْرِجُونَ رَجُلا يُكْسِبُ الْمَعْدُومَ ، وَيَصِلُ الرَّحِمَ ، وَيَحْمِلُ الْكَلَّ ، وَيَقْرِي الضَّيْفَ ، وَيُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ ، فَأَنْفَذَتْ قُرَيْشٌ جِوَارَ ابْنِ الدَّغِنَةِ ، وَأَمَّنُوا أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَقَالَتْ لابْنِ الدَّغِنَةِ : مُرْ أَبَا بَكْرٍ ، فَلْيَعْبُدْ رَبَّهُ فِي دَارِهِ مَا شَاءَ ، وَلْيُصَلِّ فِيهَا مَا شَاءَ ، وَلْيَقْرَأْ مَا شَاءَ ، وَلا يُؤْذِينَا ، وَلا يَسْتَعْلِنَ بِالصَّلاةِ وَالْقِرَاءَةِ فِي غَيْرِ دَارِهِ ، فَفَعَلَ ، ثُمَّ بَدَا لأَبِي بَكْرٍ ، فَابْتَنَى مَسْجِدًا بِفِنَاءِ دَارِهِ فَكَانَ يُصَلِّي فِيهِ ، وَتَقِفُ عَلَيْهِ نِسَاءُ الْمُشْرِكِينَ وَأَبْنَاؤُهُمْ ، وَهُمْ يَعْجَبُونَ مِنْهُ وَيَنْظُرُونَ إِِلَيْهِ ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَجُلا بَكَّاءً لا يَمْلِكُ دَمْعَهُ حِينَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ ، فَأَفْزَعَ ذَلِكَ أَشْرَافَ قُرَيْشٍ ، فَأَرْسَلُوا إِِلَى ابْنِ الدَّغِنَةِ ، فَقَدِمَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالُوا : إِِنَّا قَدْ أَجَرْنَا لَكَ أَبَا بَكْرٍ عَلَى أَنْ يَعْبُدَ اللَّهَ فِي دَارِهِ ، وَإِِنَّهُ جَاوَزَ ذَلِكَ وَابْتَنَى مَسْجِدًا بِفِنَاءِ دَارِهِ ، وَأَعْلَنَ بِالصَّلاةِ وَالْقِرَاءَةِ ، وَإِِنَّا قَدْ خَشِينَا أَنْ يَفْتِنَ نِسَاءَنَا وَأَبْنَاءَنَا ، فَإِِنْ أَحَبَّ أَنْ يَقْتَصِرَ عَلَى أَنْ يَعْبُدَ اللَّهَ فِي دَارِهِ فَعَلَ ، وَإِِنْ أَبَى إِِلا أَنْ يُعْلِنَ ذَلِكَ ، فَسَلْهُ أَنْ يَرُدَّ إِِلَيْكَ ذِمَّتَكَ ، فَإِِنَّا قَدْ كَرِهْنَا أَنْ نُخْفِرَكَ وَلَسْنَا مُقِرِّينَ لأَبِي بَكْرٍ بِالاسْتِعْلانِ ، فَأَتَى ابْنُ الدُّغُنَّةِ أَبَا بَكْرٍ ، فَقَالَ : يَا أَبَا بَكْرٍ ، قَدْ عَلِمْتَ الَّذِي عَقَدْتُ لَكَ عَلَيْهِ ، فَإِِمَّا أَنْ تَقْتَصِرَ عَلَى ذَلِكَ وَإِِمَّا أَنْ تَرُدَّ ذِمَّتِي ، فَإِِنِّي لا أَحَبُّ أَنْ تَسْمَعَ الْعَرَبُ أَنِّي أُخْفِرْتُ فِي عَقْدِ رَجُلٍ عَقَدْتُ لَهُ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : فَإِِنِّي أَرُدُّ إِِلَيْكَ جِوَارَكَ وَأَرْضَى بِجِوَارِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ بِمَكَّةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسْلِمِينَ : قَدْ أُرِيتُ دَارَ هِجْرَتِكُمْ ، أُرِيتُ سَبِخَةً ذَاتَ نَخْلٍ ، بَيْنَ لابَتَيْنِ وَهُمَا الْحَرَّتَانِ ، فَهَاجَرَ مَنْ هَاجَرَ قِبَلَ الْمَدِينَةِ حِينَ ذَكَرَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَجَعَ إِِلَى الْمَدِينَةِ بَعْضُ مَنْ كَانَ هَاجَرَ إِِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، وَتَجَهَّزَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مُهَاجِرًا ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَى رِسْلِكَ ، فَإِِنِّي أَرْجُو أَنْ يُؤْذَنَ لِي ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَتَرْجُو ذَلِكَ ، بِأَبِي أَنْتَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَحَبَسَ أَبُو بَكْرٍ نَفْسَهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصُحْبَتِهِ ، وَعَلَفَ رَاحِلَتَيْنِ كَانَتَا عِنْدَهُ وَرَقُ السَّمُرِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَبَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ يَوْمًا فِي بَيْتِنَا فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ ، إِِذْ قَالَ قَائِلٌ لأَبِي بَكْرٍ : هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلٌ مُقَنَّعٌ ، فِي سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ يَأْتِينَا فِيهَا ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : فِدَاهُ أَبِي وَأُمِّي ، إِِنْ جَاءَ بِهِ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ لأَمْرٌ ، قَالَتْ : فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَأْذَنَ ، فَدَخَلَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ لأَبِي بَكْرٍ : أَخْرِجْ مَنْ عِنْدَكَ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِِنَّمَا هُمْ أَهْلُكَ ، بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْ أُذِنَ لِي فِي الْخُرُوجِ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : فَالصُّحْبَةُ ، بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَخُذْ إِِحْدَى رَاحِلَتِيَّ هَاتَيْنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِالثَّمَنِ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَجَهَّزْنَاهُمَا أَحَبَّ الْجِهَازِ ، وَوَضَعْنَا لَهُمَا سَفْرَةً فِي جِرَابٍ ، فَقَطَعَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ مِنْ نِطَاقِهَا وَأَوْكَتْ بِهِ الْجِرَابَ ، فَلِذَلِكَ كَانَتْ تُسَمَّى : ذَاتُ النِّطَاقِ ، وَلَحِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ فِي غَارٍ فِي جَبَلٍ ، يُقَالُ لَهُ : ثَوْرٌ ، فَمَكَثَا فِيهِ ثَلاثَ لَيَالٍ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب سے میں نے ہوش سنبھالا میں نے اپنے والدین کو دین (اسلام) پر عمل پیرا دیکھا روزانہ ہمارے ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح اور شام کے وقت تشریف لایا کرتے تھے جب مسلمانوں کو آزمائش میں مبتلا کیا گیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہجرت کے ارادے سے حبشہ کی سرزمین کی طرف جانے کے لیے روانہ ہوئے یہاں تک جب وہ ” برک غماد “ پہنچے تو ان کی ملاقات ابن دغنہ سے ہوئی جو قارہ قبیلے کا سردار تھا اس نے دریافت کیا: اے ابوبکر تم کہاں جا رہے ہو۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میری قوم نے مجھے نکلنے پر مجبور کر دیا ہے اب میرا یہ ارادہ ہے کہ میں زمین میں سفر کروں گا اور اپنے پروردگار کی عبادت کروں گا۔ ابن دغنہ نے کہا: اے ابوبکر تمہارے جیسا شخص (اپنے علاقے سے) نہ تو نکل سکتا ہے اور نہ ہی اسے نکالا جا سکتا ہے تم ضرورت مند کو کما کر دیتے ہو، صلہ رحمی کرتے ہو، بوجھ برداشت کرتے ہو، مہمان نوازی کرتے ہو، حق کے کاموں میں مدد کرتے ہو میں تمہیں امان دیتا ہوں، تم واپس جاؤ اور اپنے شہر میں اپنے پروردگار کی عبادت کرو پھر ابن دغنہ وہاں سے روانہ ہوا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ واپس آ گیا۔
ابن دغنہ کفار قریش کے پاس گیا اور بولا: ابوبکر جیسے شخص کو نکالا نہیں جا سکتا تم لوگ ایک ایسے شخص کو نکال رہے ہو جو اس شخص کو کما کر دیتا ہے جس کے پاس کچھ نہیں ہوتا، رشتے داری کے حقوق کا خیال رکھتا ہے، وہ (دوسروں کا) بوجھ اٹھاتا ہے، مہمان نوازی کرتا ہے اور حق کے کاموں میں مدد کرتا ہے تو قریش نے ابن دغنہ کی دی گئی پناہ کو تسلیم کیا اور انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امان دیدی انہوں نے ابن دغنہ سے کہا: تم ابوبکر سے یہ کہو کہ وہ اپنے گھر میں جتنی چاہے اپنے پروردگار کی عبادت کرے جیسے چاہے نماز ادا کرے جیسے چاہے قرأت کرے لیکن اپنے گھر سے باہر اعلانیہ طور پر نماز پڑھ کر یا تلاوت کر کے ہمیں اذیت نہ پہنچائے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا بعد میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مناسب محسوس ہوا تو انہوں نے اپنے گھر کے صحن میں مسجد بنا لی وہ وہاں نماز ادا کیا کرتے تھے مشرکین کی خواتین اور بچے ان کے پاس آ کر ٹھہر جاتے تھے اور ان پر حیران ہوتے تھے وہ ان کی طرف دیکھتے رہتے تھے، کیونکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک ایسے شخص تھے جو روتے بہت زیادہ تھے جب وہ قرآن کی تلاوت کرتے تھے تو ان کے آنسو تھمتے نہیں تھے اس بات نے قریش کے معززین کو خوفزدہ کر دیا انہوں نے ابن دغنہ کو پیغام بھیجا وہ ان کے پاس آیا تو ان لوگوں نے کہا: ہم نے تمہاری وجہ سے ابوبکر کو اس شرط پر پناہ دی تھی کہ وہ اپنے گھر میں اللہ کی عبادت کرے گا اس نے اس چیز کی خلاف ورزی کی اور اپنے گھر کے صحن میں مسجد بنائی ہے اور اعلانیہ طور پر نماز پڑھتا ہے اور تلاوت کرتا ہے ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ وہ ہماری خواتین اور بچوں کو آزمائش کا شکار نہ کر دے اگر وہ یہ بات پسند کرے کہ وہ اپنے گھر کے اندر اپنے پروردگار کی عبادت کرنے پر اکتفاء کرے تو ٹھیک ہے، اگر وہ نہیں مانتا اور اعلانیہ طور پر ایسا کرتا ہے تو پھر تم اس سے کہو گے کہ وہ تمہاری دی ہوئی پناہ کو واپس کر دے، کیونکہ ہمیں یہ بات پسند نہیں ہے کہ ہم تمہاری دی ہوئی پناہ کی خلاف ورزی کریں اور ہم ابوبکر کو اعلانیہ طور پر ایسا کرنے بھی نہیں دے سکتے۔
این دغنہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا وہ بولا: اے ابوبکر تم یہ بات جانتے ہو کہ میں نے کس شرط پر تمہیں پناہ دی تھی یا تو تم اس پر اکتفاء کرو یا پھر تم میری دی ہوئی پناہ کو واپس کر دو کیونکہ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ عرب یہ بات سنیں کہ میں نے کسی شخص کو پناہ دینے کے بعد اس پناہ کو ختم کر دیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہاری دی ہوئی پناہ تمہیں لوٹاتا ہوں اور اللہ اور اس کے رسول کی پناہ پر راضی رہتا ہوں۔
(سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں مکہ میں قیام پذیر تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے فرمایا: تمہاری ہجرت کی سرزمین مجھے (خواب میں) دکھا دی گئی ہے میں نے دیکھا ہے کہ وہ شور زدہ زمین ہے جہاں کھجوروں کے درخت ہیں اور اس کے دونوں کناروں کی طرف پتھریلی سرزمین ہے۔
(سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں) جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ذکر کی تو جن لوگوں نے ہجرت کرنی تھی وہ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کر گئے اور جو مسلمان پہلے حبشہ کی سرزمین کی طرف ہجرت کر چکے تھے ان میں سے بھی کچھ لوگ مدینہ منورہ کی طرف آ گئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی ہجرت کے لیے ساز و سامان تیار کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم ابھی ٹھہرے رہو، کیونکہ مجھے یہ امید ہے کہ مجھے بھی (ہجرت کرنے کی) اجازت مل جائے گی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی امید ہے میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خود کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے روک لیا وہ اپنے پاس موجود اونٹوں کو چار ماہ تک ببول کے پتے چارے کے طور پر کھلاتے رہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ ہم دوپہر کے وقت اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران کسی نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ ڈھانپا ہوا تھا اور یہ ایک ایسی گھڑی تھی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف نہیں لاتے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرے ماں باپ ان پر قربان ہوں آپ اس وقت کسی ضروری معاملے کی وجہ سے تشریف لائے ہوں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لے آئے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا اپنے آس پاس موجود لوگوں کو گھر سے باہر نکال دو۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں یہ آپ کے اہل خانہ ہی ہیں (کوئی دوسرا شخص نہیں ہے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے روانگی کا حکم مل گیا ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں میں آپ کا ساتھ دوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے والد آپ پر قربان ہوں، آپ ان دو اونٹنیوں میں سے ایک لے لیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیمت کے عوض میں لوں گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پھر ہم نے ان دونوں کے لیے زاد سفر تیار کیا ہم نے اسے چمڑے کے ایک تھیلے میں رکھا۔ سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا نے اپنے کمربند کو کاٹ کر اس تھیلے کا منہ بند کر دیا اسی لیے انہیں ذات نطاق کہا: جاتا ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پہاڑ میں موجود غار میں چلے گئے جس کا نام ثور ہے وہ وہاں تین دن تک مقیم رہے۔
ابن دغنہ کفار قریش کے پاس گیا اور بولا: ابوبکر جیسے شخص کو نکالا نہیں جا سکتا تم لوگ ایک ایسے شخص کو نکال رہے ہو جو اس شخص کو کما کر دیتا ہے جس کے پاس کچھ نہیں ہوتا، رشتے داری کے حقوق کا خیال رکھتا ہے، وہ (دوسروں کا) بوجھ اٹھاتا ہے، مہمان نوازی کرتا ہے اور حق کے کاموں میں مدد کرتا ہے تو قریش نے ابن دغنہ کی دی گئی پناہ کو تسلیم کیا اور انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امان دیدی انہوں نے ابن دغنہ سے کہا: تم ابوبکر سے یہ کہو کہ وہ اپنے گھر میں جتنی چاہے اپنے پروردگار کی عبادت کرے جیسے چاہے نماز ادا کرے جیسے چاہے قرأت کرے لیکن اپنے گھر سے باہر اعلانیہ طور پر نماز پڑھ کر یا تلاوت کر کے ہمیں اذیت نہ پہنچائے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا بعد میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مناسب محسوس ہوا تو انہوں نے اپنے گھر کے صحن میں مسجد بنا لی وہ وہاں نماز ادا کیا کرتے تھے مشرکین کی خواتین اور بچے ان کے پاس آ کر ٹھہر جاتے تھے اور ان پر حیران ہوتے تھے وہ ان کی طرف دیکھتے رہتے تھے، کیونکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک ایسے شخص تھے جو روتے بہت زیادہ تھے جب وہ قرآن کی تلاوت کرتے تھے تو ان کے آنسو تھمتے نہیں تھے اس بات نے قریش کے معززین کو خوفزدہ کر دیا انہوں نے ابن دغنہ کو پیغام بھیجا وہ ان کے پاس آیا تو ان لوگوں نے کہا: ہم نے تمہاری وجہ سے ابوبکر کو اس شرط پر پناہ دی تھی کہ وہ اپنے گھر میں اللہ کی عبادت کرے گا اس نے اس چیز کی خلاف ورزی کی اور اپنے گھر کے صحن میں مسجد بنائی ہے اور اعلانیہ طور پر نماز پڑھتا ہے اور تلاوت کرتا ہے ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ وہ ہماری خواتین اور بچوں کو آزمائش کا شکار نہ کر دے اگر وہ یہ بات پسند کرے کہ وہ اپنے گھر کے اندر اپنے پروردگار کی عبادت کرنے پر اکتفاء کرے تو ٹھیک ہے، اگر وہ نہیں مانتا اور اعلانیہ طور پر ایسا کرتا ہے تو پھر تم اس سے کہو گے کہ وہ تمہاری دی ہوئی پناہ کو واپس کر دے، کیونکہ ہمیں یہ بات پسند نہیں ہے کہ ہم تمہاری دی ہوئی پناہ کی خلاف ورزی کریں اور ہم ابوبکر کو اعلانیہ طور پر ایسا کرنے بھی نہیں دے سکتے۔
این دغنہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا وہ بولا: اے ابوبکر تم یہ بات جانتے ہو کہ میں نے کس شرط پر تمہیں پناہ دی تھی یا تو تم اس پر اکتفاء کرو یا پھر تم میری دی ہوئی پناہ کو واپس کر دو کیونکہ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ عرب یہ بات سنیں کہ میں نے کسی شخص کو پناہ دینے کے بعد اس پناہ کو ختم کر دیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہاری دی ہوئی پناہ تمہیں لوٹاتا ہوں اور اللہ اور اس کے رسول کی پناہ پر راضی رہتا ہوں۔
(سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں مکہ میں قیام پذیر تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے فرمایا: تمہاری ہجرت کی سرزمین مجھے (خواب میں) دکھا دی گئی ہے میں نے دیکھا ہے کہ وہ شور زدہ زمین ہے جہاں کھجوروں کے درخت ہیں اور اس کے دونوں کناروں کی طرف پتھریلی سرزمین ہے۔
(سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں) جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ذکر کی تو جن لوگوں نے ہجرت کرنی تھی وہ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کر گئے اور جو مسلمان پہلے حبشہ کی سرزمین کی طرف ہجرت کر چکے تھے ان میں سے بھی کچھ لوگ مدینہ منورہ کی طرف آ گئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی ہجرت کے لیے ساز و سامان تیار کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم ابھی ٹھہرے رہو، کیونکہ مجھے یہ امید ہے کہ مجھے بھی (ہجرت کرنے کی) اجازت مل جائے گی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی امید ہے میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خود کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے روک لیا وہ اپنے پاس موجود اونٹوں کو چار ماہ تک ببول کے پتے چارے کے طور پر کھلاتے رہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ ہم دوپہر کے وقت اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران کسی نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ ڈھانپا ہوا تھا اور یہ ایک ایسی گھڑی تھی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف نہیں لاتے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرے ماں باپ ان پر قربان ہوں آپ اس وقت کسی ضروری معاملے کی وجہ سے تشریف لائے ہوں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لے آئے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا اپنے آس پاس موجود لوگوں کو گھر سے باہر نکال دو۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں یہ آپ کے اہل خانہ ہی ہیں (کوئی دوسرا شخص نہیں ہے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے روانگی کا حکم مل گیا ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں میں آپ کا ساتھ دوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے والد آپ پر قربان ہوں، آپ ان دو اونٹنیوں میں سے ایک لے لیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیمت کے عوض میں لوں گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پھر ہم نے ان دونوں کے لیے زاد سفر تیار کیا ہم نے اسے چمڑے کے ایک تھیلے میں رکھا۔ سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا نے اپنے کمربند کو کاٹ کر اس تھیلے کا منہ بند کر دیا اسی لیے انہیں ذات نطاق کہا: جاتا ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پہاڑ میں موجود غار میں چلے گئے جس کا نام ثور ہے وہ وہاں تین دن تک مقیم رہے۔