کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - ذکر بیان کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ لوگوں میں سے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں سب سے زیادہ امانت دار تھے
حدیث نمبر: 6861
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا مَعَنُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : " إِِنَّ عَبْدًا خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا مَا شَاءَ وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ ، فَاخْتَارَ مَا عِنْدَهُ " ، فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ ، وَقَالَ : فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الْمُخَيَّرُ ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ أَعْلَمَنَا بِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِنَّ أَمَنَّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي مَالِهِ وَصَحِبْتِهِ أَبُو بَكْرٍ ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلا لاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلا ، وَلَكِنْ أُخُوَّةُ الإِِسْلامِ ، لا يَبْقِيَنَّ فِي الْمَسْجِدِ خَوْخَةٌ إِِلا خَوْخَةُ أَبِي بَكْرٍ " .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک بندے کو اللہ تعالیٰ نے یہ اختیار دیا کہ وہ اسے جتنی چاہے دنیا کی آرائش و زیبائش عطا کر دے یا پھر اپنی بارگاہ (کا مرتبہ و مقام اور اجر و ثواب) عطا کر دے تو اس بندے نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں موجود (اجر و ثواب) کو اختیار کیا (راوی کہتے ہیں:) اس پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رو پڑے انہوں نے عرض کی: ہم اپنے باپ اپنی مائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان کرتے ہیں (راوی کہتے ہیں:) اصل میں وہ اختیار دیئے گئے شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس بارے میں ہم سب سے زیادہ جانتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” اپنے مال اور ساتھ کے اعتبار سے میرے ساتھ سب سے زیادہ اچھا سلوک ابوبکر نے کیا ہے، اگر میں نے کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو میں ابوبکر کو خلیل بناتا لیکن اسلام کا بھائی چارہ (باقی ہے) مسجد میں موجود ہر دروازہ بند کر دیا جائے صرف ابوبکر کے داخلے کا مخصوص دروازہ کھلا رہنے دیا جائے۔ “