کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - ذکر بیان کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ لوگوں میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اپنے مال اور جان سے سب سے زیادہ امانت دار تھے
حدیث نمبر: 6860
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ عَاصِبًا رَأْسَهُ ، فَجَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِِنَّهُ لَيْسَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَمَنَّ عَلَيَّ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ مِنِ ابْنِ أَبِي قُحَافَةَ ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنَ النَّاسِ خَلِيلا لاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ ، وَلَكِنْ خُلَّةُ الإِِسْلامِ ، سُدُّوا عَنِّي كُلَّ خَوْخَةٍ فِي الْمَسْجِدِ غَيْرَ خَوْخَةِ أَبِي بَكْرٍ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سُدُّوا عَنِّي كُلَّ خَوْخَةٍ فِي الْمَسْجِدِ غَيْرَ خَوْخَةِ أَبِي بَكْرٍ " فِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْخَلِيفَةَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَبُو بَكْرٍ ، إِِذِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَسَمَ عَنِ النَّاسِ كُلِّهِمْ أَطْمَاعَهُمْ فِي أَنْ يَكُونُوا خُلَفَاءَ بَعْدَهُ غَيْرَ أَبِي بَكْرٍ بِقَوْلِهِ : سُدُّوا عَنِّي كُلَّ خَوْخَةٍ فِي الْمَسْجِدِ غَيْرَ خَوْخَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جس بیماری کے دوران انتقال ہوا اس بیماری کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر پٹی لپیٹ کر (مسجد میں) تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا: لوگوں میں سے کسی بھی شخص نے اپنی جان اور مال کے حوالے سے ابن ابوقحافہ سے زیادہ میرے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا اگر میں نے لوگوں میں سے کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو ابوبکر کو بنا لیتا البتہ اسلام کی دوستی (باقی ہے) تم لوگ مسجد میں موجود ہر دروازہ بند کر دو صرف ابوبکر (کے داخلے کا مخصوص) دروازہ (کھلا رہنے دیا جائے)۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان تم لوگ مسجد کے ہر دروازے کو بند کر دو صرف ابوبکر کا دروازہ کھلا رہنے دیا جائے اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد (مسلمانوں کے) خلیفہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہوں گے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام لوگوں کے حوالے سے یہ اندازہ تھا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ ہونے کے خواہش مند ہو سکتے ہیں صرف سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں (یہ اندازہ تھا کہ وہ اس بات کے خواہشمند نہیں ہوں گے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا ” کہ تم مسجد میں داخلے کا ہر دروازہ بند کر دو صرف ابوبکر کے داخلے کا مخصوص دروازہ (بند نہ کرو)
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان تم لوگ مسجد کے ہر دروازے کو بند کر دو صرف ابوبکر کا دروازہ کھلا رہنے دیا جائے اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد (مسلمانوں کے) خلیفہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہوں گے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام لوگوں کے حوالے سے یہ اندازہ تھا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ ہونے کے خواہش مند ہو سکتے ہیں صرف سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں (یہ اندازہ تھا کہ وہ اس بات کے خواہشمند نہیں ہوں گے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا ” کہ تم مسجد میں داخلے کا ہر دروازہ بند کر دو صرف ابوبکر کے داخلے کا مخصوص دروازہ (بند نہ کرو)