کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ اس ہوا کی وصف جو آخر زمان میں لوگوں کی روحیں قبض کرے گی
حدیث نمبر: 6853
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُبْعَثَ رِيحٌ حَمْرَاءُ مِنْ قِبَلِ الْيَمَنِ ، فَيَكْفِتُ اللَّهُ بِهَا كُلَّ نَفْسٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ، وَمَا يُنْكِرُهَا النَّاسُ مِنْ قِلَّةِ مَنْ يَمُوتُ فِيهَا : مَاتَ شَيْخٌ فِي بَنِي فُلانٍ ، وَمَاتَتْ عَجُوزٌ فِي بَنِي فُلانٍ ، وَيُسَرَى عَلَى كِتَابِ اللَّهِ ، فَيُرْفَعُ إِِلَى السَّمَاءِ ، فَلا يَبْقَى فِي الأَرْضِ مِنْهُ آيَةٌ ، وَتَقِيءُ الأَرْضُ أَفْلاذَ كَبِدِهَا مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ ، وَلا يَنْتَفِعُ بِهَا بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ ، يَمُرُّ بِهَا الرَّجُلُ فَيَضْرِبُهَا بِرِجْلِهِ ، وَيَقُولُ : فِي هَذِهِ كَانَ يَقْتَتِلُ مَنْ كَانَ قَبْلَنَا ، وَأَصْبَحَتِ الْيَوْمَ لا يُنْتَفَعُ بِهَا " ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَإِِنَّ أَوَّلَ قَبَائِلِ الْعَرَبِ فَنَاءً قُرَيْشٌ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، أَوْشَكَ أَنْ يَمُرَّ الرَّجُلُ عَلَى النَّعْلِ وَهِيَ مُلْقَاةٌ فِي الْكُنَاسَةِ فَيَأْخُذُهَا بِيَدِهِ ، ثُمَّ يَقُولُ : كَانَتْ هَذِهِ مِنْ نِعَالِ قُرَيْشٍ فِي النَّاسِ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی، جس وقت تک یمن کی طرف سے سرخ ہوا نہیں چلے گی، تو اس ہوا کے ذریعے اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کی جان کو قبض کر لے گا، جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو۔ اس میں مرنے والے لوگوں کی کمی کی وجہ سے لوگ اسے منکر نہیں سمجھیں گے (اور یہ کہیں گے) بنو فلاں کا بوڑھا آدمی اس میں مر گیا ہے اور بنو فلاں کی بوڑھی عورت اس میں مر گئی ہے۔ اللہ کی کتاب کو الگ کیا جائے گا اور اسے آسمان کی طرف اٹھا لیا جائے گا زمین پر اس میں سے کوئی بھی آیت باقی نہیں رہے گی زمین اپنے جگر کے ٹکڑے یعنی سونے اور چاندی کو اگل دے گی لیکن اس دن کے بعد کوئی اس سے نفع حاصل نہیں کر سکے گا کوئی شخص ان کے پاس سے گزرے گا انہیں پاؤں مارے گا اور یہ کہے گا: کیا ان کی وجہ سے ہم سے پہلے کے لوگ ایک دوسرے سے لڑا کرتے تھے؟ آج یہ عالم ہے کہ ان سے نفع حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ “ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: عرب کے قبائل میں سے سب سے پہلے قریش ختم ہو جائیں گے۔ اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے عنقریب ایک ایسا وقت آئے گا جب کوئی شخص کسی جوتے کے پاس سے گزرے گا جو کسی کوڑے کے ڈھیر پر پڑا ہو گا وہ اپنے ہاتھ سے اسے پکڑے گا اور پھر یہ کہے گا اس طرح کے جوتے قریش کے ہوا کرتے تھے۔ “