کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر وہ علامت جس سے قیامت کے قیام کی دلیل ملتی ہے
حدیث نمبر: 6844
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي زُفَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَرْدَكَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ وَالِبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَظْهَرَ الْفُحْشُ وَالْبُخْلُ ، وَيُخَوَّنَ الأَمِينُ ، وَيُؤْتَمَنَ الْخَائِنُ ، وَيَهْلِكَ الْوُعُولُ ، وَتَظْهَرَ التَّحُوتُ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الْوُعُولُ وَالتَّحُوتُ ؟ قَالَ : " الْوُعُولُ : وجُوهُ النَّاسِ وَأَشْرَافُهُمْ ، وَالتَّحُوتُ : الَّذِينَ كَانُوا تَحْتَ أَقْدَامِ النَّاسِ لا يُعْلَمُ بِهِمْ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : سَمِعَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ أَبَا هُرَيْرَةَ وَهُوَ ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ إِِذَا ذَاكَ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک فحاشی، کنجوسی عام نہیں ہو جاتے۔ امین شخص کو خائن قرار دیا جائے گا اور خائن شخص کو امین بنایا جائے گا۔ دعول ہلاکت کا شکار ہو جائے گا اور تحوت عام ہو جائے گا۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! دعول اور تحوت سے کیا مراد ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” دعول “ سے مراد لوگوں کے بڑے اور معززین ہیں اور ” تحوت “ سے مراد وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے پاؤں کے نیچے رہتے ہیں اور ان کے بارے میں علم نہیں ہوتا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سعید بن جبیر نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس وقت احادیث کا سماع کیا تھا جس وقت ان کی عمر دس سال تھی۔