کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر وہ خصوصیات جن کی قیامت سے پہلے توقع کی جاتی ہے
حدیث نمبر: 6843
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الطُّفَيْلِ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ حُذَيْفَةَ بْنِ أُسَيْدٍ ، قَالَ : أَشْرَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ ، فَقَالَ : مَاذَا كُنْتُمْ تَتَذَاكَرُونَ ؟ قُلْنَا : كُنَّا نَتَذَاكَرُ السَّاعَةَ ، فَقَالَ : " إِِنَّهَا لا تَقُومُ حَتَّى تَرَوْا قَبْلَهَا عَشْرَ آيَاتٍ : الدَّجَّالَ ، وَالدُّخَانَ ، وَعِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ ، وَيَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ ، وَالدَّابَّةَ ، وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا ، وَثَلاثَ خُسُوفٍ : خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ ، وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ ، وَآخَرُ ذَلِكَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدَنَ أَوْ عَدَنٍ أَوِ الْيَمَنِ ، تَطْرُدُ النَّاسَ إِِلَى الْمَحْشَرِ " .
سیدنا ابوسریحہ حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف جھانک کر دیکھا ہم اس وقت بات چیت کر رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کس چیز کے بارے میں بات چیت کر رہے ہو؟ ہم نے عرض کی: ہم قیامت کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہیں دیکھو گے۔ دجال، دھواں، سیدنا عیسیٰ بن مریم (کا نزول)، یاجوج و ماجوج، دابۃ الارض، سورج کا مغرب سے نکلنا اور تین مرتبہ دھنسنا ایک مرتبہ دھنسنا مشرق میں ہو گا ایک مرتبہ دھنسنا مغرب میں ہو گا ایک مرتبہ دھنسنا جزیرۃ العرب میں ہو گا اور اس کے آخر میں ایک آگ ہو گی جو عدن کے گڑھے سے نکلے گی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) عدن سے نکلے گی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) یمن سے نکلے گی اور وہ لوگوں کو میدان محشر کی طرف لے جائے گی۔