کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ اس آگ کے سیر کی منزل کی وصف جو ہم نے ذکر کی
حدیث نمبر: 6841
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَاهِرِ بْنِ أَبِي الدُّمَيْكِ بِبَغْدَادَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ الأَعْمَشَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ حِمَازٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَزَلْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ ، وَتَعَجَّلَتْ رِجَالٌ إِِلَى الْمَدِينَةِ فَبَاتُوا بِهَا ، فَلَمَّا أَصْبَحَ سَأَلَ عَنْهُمْ ، فَقِيلَ : تَعَجَّلُوا إِِلَى الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ : " تَعَجَّلُوا إِِلَى الْمَدِينَةِ وَالنِّسَاءِ ؟ أَمَا إِِنَّهُمْ سَيَتْرُكُونَها أَحْسَنَ مَا كَانَتْ " وَقَالَ لِلَّذِينَ تَخَلَّفُوا مَعَهُ مَعْرُوفًا ، ثُمَّ قَالَ : " لَيْتَ شِعْرِي ، مَتَى تَخْرُجُ نَارٌ مِنَ الْيَمَنِ مِنْ جَبَلِ الْوَرَّاقِ ، تُضِيءُ لَهَا أَعْنَاقُ الإِِبِلِ وَهِيَ تَنْزِلُ بِبُصْرَى كَضَوْءِ النَّهَارِ " ، قَالَ عَلِيٌّ : بُصْرَى بِالشَّامِ .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آ رہے تھے ہم نے ذوالحلیفہ میں پڑاؤ کیا، کچھ لوگ جلدی مدینہ منورہ کی طرف چلے گئے انہوں نے وہاں رات بسر کی جب صبح ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے بارے میں دریافت کیا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ وہ لوگ پہلے ہی مدینہ منورہ چلے گئے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ لوگ مدینہ منورہ اور خواتین کی طرف جلدی چلے گئے ہیں؟ اگر وہ لوگ ان خواتین کو ایسے ہی رہنے دیتے (یعنی کل رات جلدی نہ جاتے) تو یہ زیادہ بہتر تھا البتہ جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیچھے رہ گئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ مناسب طور پر بات کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہائے افسوس! جب یمن سے وراق کے پہاڑ سے آگ نکلے گی تو اس کے ذریعے اونٹوں کی گردنیں روشن ہو جائیں گی اور وہ آگ بصریٰ پر یوں نازل ہو گی، جس طرح دن کی روشنی ہوتی ہے۔ علی بن مدینی نامی راوی کہتے ہیں: بصریٰ نامی جگہ شام میں ہے۔